المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
353. تفسير سورة المنافقين - شأن نزول سورة المنافقين
تفسیرِ سورۃ المنافقین — سورۂ منافقین کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 3854
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبي سعيد الأَزْدي، حدثنا زيد بن أرقَمَ قال: غَزَوْنا مع رسول الله ﷺ، وكان معنا ناسٌ من الأعراب، فكنا نَبتدِرُ الماءَ، وكان الأعرابُ يَسبِقونا، فيَسبِقُ الأعرابيُّ أصحابَه فيملأُ الحوضَ، ويجعل حولَه حجارةً ويجعل النِّطعَ عليه حتى يجيءَ أصحابُه، فأتى رجلٌ من الأنصار الأعرابيَّ فأَرخَى زِمامَ ناقته لتشربَ، فأَبى أن يَدَعَه، فانتَزَع حَجَرًا ففاضَ، فرفع الأعرابيٌّ خشبةً فضرب بها رأسَ الأنصاري فشَجَّه، فأتى عبدَ الله بنَ أُبيٍّ رأسَ المنافقين فأخبره، وكان من أصحابه، فغَضِبَ عبدُ الله بن أُبي، ثم قال: لا تُنفِقوا على مَن عندَ رسول الله حتى ينفضُّوا من حوله؛ يعني: الأعرابَ، وكانوا يُحدِّثون رسولَ الله ﷺ عند الطعام، فقال عبد الله لأصحابه: إذا انفضُّوا من عندِ محمد، فأْتُوا محمدًا بالطعام (1) فليأكُلْ هو ومَن عندَه، ثم قال لأصحابه: إذا رجعتُم إلى المدينة، فليُخرِجِ (2) الأعزُّ منها الأذلَّ. قال زيد: وأنا رِدْفُ عمِّي، فسمعتُ عبدَ الله وكنَّا أخوالَه (3) ، فأخبرتُ عمِّي، فانطلق فأَخبر رسولَ الله ﷺ، فأرسل إليه رسولُ الله ﷺ، فحَلَفَ وجَحَدَ، فَصَدَّقه رسولُ الله ﷺ وكذَّبني، فجاء إليَّ عمِّى فقال: ما أردتَ أنْ مَقَتَك رسولُ الله ﷺ وكذَّبَك (4) المسلمون، فوَقَعَ عليَّ من الغمِّ ما لم يَقَعْ على أحدٍ قطُّ. فبَيْنا أنا أسِيرُ مع رسول الله ﷺ في سفرٍ وقد خَفَقَتْ برأسي من الهمِّ، فأتاني رسول الله ﷺ فَعَرَكَ أُذُني وضحك في وجهي، فما كان يَسرُّني أَنَّ لي بها الخُلْدَ أو الدنيا، ثم إنَّ أبا بكر لَحِقَني، فقال: ما قال لك رسولُ الله ﷺ؟ قلت: ما قال لي رسول الله ﷺ شيئًا غيرَ أنْ عَرَكَ أُذني وضحك في وجهي، فقال: أَبشِرْ، ثم لَحِقَني عمر، فقلت له مثلَ قولي لأبي بكر. فلمّا أصبَحْنا قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ المنافقين: ﴿قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ﴾ حتى بَلَغَ ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا﴾ حتى بَلَغَ ﴿لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ (1) . قد اتَّفق الشيخان على إخراج أحرفٍ يسيرة من هذا الحديث من حديث أبي إسحاق السَّبِيعي عن زيد بن أرقمَ، وأخرج البخاري متابِعًا لأبي إسحاق من حديث شُعْبة عن الحَكَم عن محمد بن كعب القُرَظي عن زيد بن أرقمَ، ولم يُخرجاه بطوله، والإسناد صحيح. [64 - ومن تفسير سورة التغابن] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3812 - صحيح وأخرجا منه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3812 - صحيح وأخرجا منه
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک ہوئے، ہمارے ہمراہ کچھ دیہاتی لوگ بھی تھے، ہم پانی کی طرف ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے لگے (عموماً) دیہاتی ہم سے آگے نکل جایا کرتے تھے چنانچہ (اس دن بھی) ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا۔ اس نے حوض بھر لیا اور اس کے اردگرد پتھر رکھ کر اس کی حلقہ بندی کر لی۔ پھر اس کے ساتھی بھی اس کے پاس پہنچ گئے، ایک انصاری دیہاتی اس کے قریب آیا، اس نے اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی کی تاکہ وہ پانی پی لے۔ اس دیہاتی نے اونٹنی کو پانی پلانے کی اجازت نہ دی تو اس انصاری نے وہاں سے ایک پتھر کھینچ دیا جس کی وجہ سے حوض کا پانی بہہ گیا۔ اس دیہاتی نے ایک ڈنڈا اٹھا کر انصاری کے سر پر مارا اور اس کا سر پھوڑ دیا۔ پھر وہ شخص منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ عبداللہ بن ابی غصبناک ہوا پھر بولا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو دیہاتی رہتے ہیں، ان پر خرچ مت کرو حتیٰ کہ یہ خود ہی ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ وہ لوگ کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے، تو عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جائیں تب تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کے لئے آ جاؤ تاکہ کھانا صرف آپ اور وہ لوگ کھائیں جو (اس وقت) ان کے پاس موجود ہوں۔ پھر اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب تم مدینہ میں لوٹ کر جاؤ گے تو جو عزت دار ہیں وہ ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں۔ سیدنا زید کہتے ہیں: میں اپنے چچا کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے عبداللہ کی (یہ بکواس) سن لی۔ ہماری اس کے ساتھ رشتہ داری بھی تھی، میں نے اپنے چچا کو بتایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو واقعہ بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسم کھا کر انکار کر گیا اور معذرت کر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات مان لی اور میری بات تسلیم نہ کی، پھر میرے چچا میرے پاس آئے اور بولے: تجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا اور جھٹلا دیا ہے اور مسلمانوں نے بھی تجھے جھٹلا دیا ہے (یہ بات سن کر) مجھ پر غم (کا ایسا کوہ گراں) آن پڑا کہ زندگی میں کبھی بھی میں اس قدر غمزدہ نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہا تھا اور میرا سر غم کی وجہ سے جھکا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میرے کان کو تھوڑا سا مسلا اور میرے قریب ہو کر آپ مسکرائے (اس وقت مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ) اگر اس کے بدلے مجھ کو دنیا اور جنت بھی دے تو میں قبول نہ کروں۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا، میں نے کہا: آپ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کہی سوائے اس کے کہ میرا کان مسل کر مجھے ہنسایا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں خوشخبری ہو۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا بات کی؟ میں نے ان کو بھی وہی جواب دیا جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ المنافقون: اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ) (سے شروع کی حتیٰ کہ) الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْا تک پہنچے (پھر تلاوت کرتے رہے) حتیٰ کہ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ تک پہنچے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسحاق سبیعی کے حوالے سے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے کچھ الفاظ نقل کئے ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ابواسحاق کی متابعت میں درج ذیل سند کے ہمراہ اس کو نقل کیا ہے۔ عن شعبۃ، عن الحکم، عن محمد بن کعب القرظی عن زید بن ارقم لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس مفصل حدیث کو نقل نہیں کیا حالانکہ اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3854]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3854 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (ع): للطعام.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "للطعام" کے الفاظ ہیں۔
(2) في (ز): ليخرجن.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "لیخرجن" ہے۔
(3) في (ص) و (ع): حوله، وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (ع) میں "حولہ" ہے، جو کہ "تحریف" (غلطی) ہے۔
(4) تكررت هذه اللفظة في (ص) و (ع) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: یہ لفظ نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں مکرر آگیا ہے۔
(1) غريب بهذا السياق، انفرد به السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي سعيد الأزدي، والسدي صدوق حسن الحديث، إلّا أنَّ له أوهامًا تقع في بعض حديثه، وأبو سعيد - ويقال: أبو سعد - الأزدي ليس بذاك المشهور، روى عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقد خولف في لفظه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ "غریب" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سُدّی (جو کہ اسماعیل بن عبد الرحمن ہیں) اس روایت کو ابو سعید الازدی سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔ سُدّی صدوق اور حسن الحدیث ہیں مگر ان کی بعض احادیث میں اوہام پائے جاتے ہیں۔ اور ابو سعید (جنہیں ابو سعد بھی کہا جاتا ہے) الازدی زیادہ مشہور نہیں ہیں، ان سے ایک سے زائد راویوں نے روایت لی ہے، لیکن ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے، اور ان کے الفاظ میں مخالفت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3313) عن عبد بن حميد، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3313) نے عبد بن حمید سے، انہوں نے عبید اللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وأخرج أصل الحديث دون قصة الأعراب والأنصاري: أحمد 32/ (19285) و (19295)، والبخاري (4902)، والترمذي (3314)، والنسائي (11533) من طريق محمد بن كعب القرظي، وأحمد (19333) و (19334)، والبخاري (4900) و (4901) و (4903)، ومسلم (2772)، والترمذي (3312)، والنسائي (11534) من طريق أبي إسحاق السبيعي، والنسائي (11530) من طريق عبد الرحمن بن أبي ليلى، ثلاثتهم عن زيد بن أرقم.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی اصل (اعرابی اور انصاری کے قصے کے بغیر) کو احمد (32/19285، 19295)، بخاری (4902)، ترمذی (3314) اور نسائی (11533) نے محمد بن کعب قرظی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز احمد (19333، 19334)، بخاری (4900، 4901، 4903)، مسلم (2772)، ترمذی (3312) اور نسائی (11534) نے ابو اسحاق سبیعی کے طریق سے، اور نسائی (11530) نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ تینوں (محمد بن کعب، ابو اسحاق، عبد الرحمن) اسے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
وقد أشار جابر في حديثه - كما عند أحمد 23/ (15223) والبخاري (4905) وغيرهما - إلى أنَّ الخلاف كان قد وقع بين المهاجرين والأنصار بسبب أنَّ رجلًا من المهاجرين كَسَعَ رجلًا من الأنصار - أي: ضربه على دُبُره - فقال عبد الله بن أُبيّ ما قال.
🧾 تفصیلِ روایت: سیدنا جابر نے اپنی حدیث میں اشارہ کیا ہے - جیسا کہ احمد (23/15223) اور بخاری (4905) وغیرہ میں ہے - کہ مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف اس وجہ سے ہوا تھا کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کو "کسع" کیا (یعنی اس کی سرین پر مارا)، جس پر عبد اللہ بن ابی (منافق) نے وہ بکواس کی جو اس نے کی۔