🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
359. تفسير سورة التحريم - شأن نزول آية: لم تحرم ما أحل الله لك
تفسیرِ سورۃ التحریم — آیتِ لم تحرم ما أحل اللہ لک کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3866
حدثني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، حدثنا محمد بن بُكَير الحَضْرمي، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ كانت له أَمَةٌ يَطؤُها، فلم تَزَلْ به حَفْصةُ (2) حتى جعلها على نفسه حرامًا، فأَنزل الله هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ إلى آخر الآية (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3824 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ ہمبستری کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا مسلسل حضور کے پیچھے پڑی رہتی تھیں، بالآخر آپ نے اس کو اپنے اوپر حرام کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ (التحریم: 1) اے نبی! تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3866]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3866 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في المطبوع: عائشة وحفصة. وهو خطأ، فإنَّ عائشة لم تُذكَر في رواية المصنف وعنه البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 353، وذُكرت في رواية حماد بن سلمة عن ثابت عند غير المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں "عائشہ اور حفصہ" ہے، جو کہ "غلطی" ہے، کیونکہ مصنف کی روایت میں اور بیہقی (السنن الکبریٰ 7/353) میں سیدہ عائشہ کا ذکر نہیں ہے، البتہ مصنف کے علاوہ دوسروں کے ہاں حماد بن سلمہ عن ثابت کی روایت میں ان کا ذکر ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن بكير الحضرمي. ثابت: هو ابن أسلم البُناني. وأخرجه النسائي (8857) و (11543) من طريق حماد بن سلمة، عن ثابت، به - وذكر مع حفصة عائشة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند محمد بن بکیر حضرمی کی وجہ سے "قوی" ہے۔ ثابت سے مراد "ابن اسلم البنانی" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8857، 11543) نے حماد بن سلمہ عن ثابت کے طریق سے روایت کیا ہے - اور اس میں حفصہ کے ساتھ عائشہ کا بھی ذکر کیا ہے۔