المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
364. أربع نسوة أفضل نساء أهل الجنة
چار عورتیں اہلِ جنت کی بہترین عورتیں ہیں
حدیث نمبر: 3878
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا داود بن أبي الفُرَات، عن عِلْباءَ بن أحمر اليَشكُري، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: خَطَّ رسولُ الله ﷺ أربعَ خطوط ثم قال:"أَتدرون ما هذا؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال:"إنَّ أفضلَ نساءِ أهل الجنة خَديجةُ بنت خُويلِد، وفاطمةُ بنت محمد، ومريمُ بنت عِمرانَ، وَآسِيَةُ بنت مُزاحِمٍ امرأَةُ فِرعونَ مع ما قصَّ الله علينا من خبرها في القرآن: ﴿قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ [التحريم: 11] " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللَّفظ، إنما اتَّفقا على الحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3836 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللَّفظ، إنما اتَّفقا على الحديث الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3836 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار لکیریں لگائیں، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں: آپ نے فرمایا: جنتی عورتوں میں سب سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا، مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قصہ بیان فرمایا ہے: قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (التحریم: 11) ” جب اس نے عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم درج ذیل حدیث دونوں نے نقل کی ہے۔ البتہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے درج ذیل حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3878]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3878 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو الولید طیالسی سے مراد "ہشام بن عبد الملک" ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (2901) و (2957)، والنسائي (8299) و (8306)، وابن حبان (7010) من طرق عن داود بن أبي الفرات، بهذا الإسناد - دون قوله في آخره: مع ما قص الله علينا … إلخ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (5/2901، 2957)، نسائی (8299، 8306) اور ابن حبان (7010) نے داؤد بن ابی فرات کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - مگر آخر میں یہ الفاظ نہیں ہیں: "اس کے ساتھ جو اللہ نے ہم پر بیان کیا..."۔
وسيأتي دونه أيضًا بالأرقام (4205) و (4809) و (4912).
📖 حوالہ / مصدر: یہ آگے ان الفاظ کے بغیر نمبر (4205)، (4809) اور (4912) پر بھی آئے گا۔