المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
372. تفسير سورة الجن - قصة وفد الجن وعطاؤه لهم زادا
تفسیر سورۂ الجن — جنوں کے وفد کا واقعہ اور رسول اللہ ﷺ کا انہیں زادِ راہ عطا کرنا
حدیث نمبر: 3899
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حمّاد، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: ما قرأَ رسولُ الله ﷺ على الجنِّ ولا رآهم، ولكنه انطَلَق مع طائفة من أصحابه عامِدِين إلى سوق عُكَاظٍ، وقد حِيلَ بين الشياطينِ وبين خَبَرِ السماء، وأُرسِلَت عليهم الشُّهُب، فرجعوا إلى قومِهم فقالوا: ما هذا إلَّا شيءٌ قد حَدَثَ، فاضرِبوا مشارقَ الأرض ومغاربَها (2) فانظُروا هذا الذي قد حَدَثَ، فانطلَقوا يَضرِبون مشارقَ الأرض ومغاربَها يبتغون ما هذا الذي قد حالَ بينَهم وبينَ خَبَرِ السماء، فهناك حين رَجَعُوا إلى قومِهم فقالوا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا (1) يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا (2) ﴾ [الجن: 1 - 2] ، فأنزل الله ﷿: ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ﴾ [الجن: 1] ، وإنما أُوحِيَ إليه قولُ الجنِّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة! إنما أخرج مسلمٌ وحدَه (2) حديثَ داود بن أبي هند عن الشَّعْبي عن عَلقَمة عن عبد الله بطوله بغير هذه الألفاظ. وأخرج البخاريُّ (3) حديث شُعْبة عن الأعمش عن إبراهيم قال: سألتُ علقمةَ: هل كان عبدُ الله مع النبي ﷺ ليلةَ الجن؟ فذكر أحرفًا يسيرة. وقد روي عن عبد الله بن مسعود حديثٌ تداوَلَه الأئمةُ الثِّقات عن رجل مجهول عن عبد الله بن مسعود: أنه شَهِدَ مع رسول الله ﷺ ليلةَ الجن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3857 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة! إنما أخرج مسلمٌ وحدَه (2) حديثَ داود بن أبي هند عن الشَّعْبي عن عَلقَمة عن عبد الله بطوله بغير هذه الألفاظ. وأخرج البخاريُّ (3) حديث شُعْبة عن الأعمش عن إبراهيم قال: سألتُ علقمةَ: هل كان عبدُ الله مع النبي ﷺ ليلةَ الجن؟ فذكر أحرفًا يسيرة. وقد روي عن عبد الله بن مسعود حديثٌ تداوَلَه الأئمةُ الثِّقات عن رجل مجهول عن عبد الله بن مسعود: أنه شَهِدَ مع رسول الله ﷺ ليلةَ الجن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3857 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو جنات پر قرآن کی تلاوت کی اور نہ ان کو دیکھا۔ البتہ آپ اپنے کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ عکاظۃ بازار میں جانے کے ارادے سے نکلے اور شیاطین اور آسمان کی خبروں کے مابین رکاوٹ پیدا ہو چکی تھی اور ان کو شہاب ثاقب مارے گئے تھے۔ یہ جنات لوٹ کر اپنی قوم کی طرف چلے گئے۔ ان کی قوم نے ان سے لوٹنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواباً کہا: ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہو گئی اور ہم پر شہاب ثاقب برسائے گئے۔ انہوں نے کہا: یہ تو کوئی نئی چیز ہے۔ چنانچہ زمین کے مشارق و مغارب کو چھان مارو اور اس نئی چیز کو ڈھونڈو۔ یہ جنات زمین کے طول و عرض میں یہ چیز ڈھونڈنے چل نکلے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ان کے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے؟ پھر جب یہ (جنات) وہاں (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے) اپنی قوم کے پاس واپس گئے تو ان سے بولے: اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَّھْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰامَنَّا بِہٖ وَ لَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا (الجن: 1، 2) ” تو بولے ہم نے عجیب قرآن سنا، کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ (الجن: 1) ” تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا۔“ اور آپ کی طرف جنات کا کلام وحی کیا گیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم صرف امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے داؤد بن ابی ہند کے ذریعے شعبی کے واسطے سے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مفصل حدیث نقل کی ہے۔ البتہ اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں اور امام بحاری رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے روایت کیا کہ ابراہیم کہتے ہیں: میں نے علقمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا لیلۃ الجن (جس رات جنات کا گروہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے؟ تو اس سلسلے میں انہوں نے مختصر کلام کیا۔ یہ حدیث ایک مجہول شخص کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لیلۃ الجن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور اس حدیث کو معتبر ائمہ حدیث نے نقل کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3899]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3899 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) لفظ "ومغاربها" من المطبوع، واستظهره في حاشية (ع) وصحَّح عليه، وسقط من (ز) و (ص) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "ومغاربہا" مطبوعہ نسخے سے لیا گیا ہے، اور (ع) کے حاشیے میں اسے ظاہر کر کے اس پر تصحیح (ص) لگائی گئی ہے، جبکہ یہ (ز)، (ص) اور (ب) سے ساقط ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الملك بن محمد أبي قِلابة الرقاشي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند عبد الملک بن محمد ابو قلابہ رقاشی کی وجہ سے "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2271)، والبخاري (773) و (4921)، ومسلم (449)، والترمذي (3323)، والنسائي (11560) و (11561)، وابن حبان (6526) من طرق عن أبي عوانة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2271)، بخاری (773، 4921)، مسلم (449)، ترمذی (3323)، نسائی (11560، 11561) اور ابن حبان (6526) نے ابو عوانہ سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" ہے۔
(2) برقم (450) (150 - 151)، وفي أوله عن علقمة قال: سألت ابنَ مسعود فقلت: هل شهد أحد منكم مع رسول الله ﷺ ليلة الجن؟ قال: لا. وانظر "مسند أحمد" 7/ (4149).
📖 حوالہ / مصدر: نمبر (450) (150-151)، اور اس کے شروع میں علقمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن مسعود سے پوچھا: کیا آپ میں سے کوئی جنات والی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر تھا؟ انہوں نے کہا: "نہیں"۔ دیکھیے "مسند احمد" (7/4149)۔
(3) هذا ذهول من المصنف ﵀، فإنَّ البخاري لم يخرجه من هذا الطريق، وهو عند الشاشي في "مسنده" (332) وفيه: سألت علقمة: أكان عبد الله مع رسول الله ﷺ ليلة الجن؟ فقال: وَدِدتُ أنَّ صاحبنا كان ذاك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مصنف رحمہ اللہ کا "ذہول" ہے، کیونکہ بخاری نے اسے اس طریق سے روایت نہیں کیا۔ یہ شاشی کی "مسند" (332) میں ہے اور اس میں ہے: میں نے علقمہ سے پوچھا: کیا عبد اللہ (بن مسعود) جنات والی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟ تو انہوں نے کہا: "میں تمنا کرتا ہوں کہ ہمارے ساتھی (عبد اللہ) وہاں ہوتے" (یعنی وہ نہیں تھے)۔
وهو عند مسلم برقم (450) (152) من طريق أبي معشر زياد بن كليب، عن إبراهيم النخعي، عن علقمة، عن عبد الله قال: لم أكن ليلة الجن مع رسول الله ﷺ، وددت أني كنت معه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مسلم (450/152) میں ابو معشر زیاد بن کلیب کے طریق سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبد اللہ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: "میں جنات والی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں تھا، میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا"۔