🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
378. مدح كلام الله من لسان الكافر
کافر کی زبان سے بھی اللہ کے کلام کی تعریف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن مَعمَر، عن أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ الوليد بن المُغيرة جاء إلى النبي ﷺ فقرأ عليه القرآن، فكأنه رَقَّ له، فبَلَغَ ذلك أبا جهل، فأتاه فقال: يا عمِّ، إِنَّ قومَك يَرَونَ أَن يَجمَعوا لك مالًا، قال: لِمَ؟ قال: ليُعطوكَه، فإنك أتيتَ محمدًا لتَعرَّضَ لِمَا قِبَلَه، قال: قد عَلِمَت قريشٌ أني من أكثرها مالًا، قال: فقُلْ فيه قولًا يبَلُغ قومَك أنك منكِرٌ له، أو أنك كارهٌ له، قال: وماذا أقول؟ فواللهِ ما فيكم رجلٌ أعلمَ بالأشعار مني، ولا أعلمَ برَجَزِه ولا بقَصيدِه (2) مني، ولا بأشعار الجنِّ، واللهِ ما يُشبِهُ الذي يقول شيئًا من هذا، ووالله إنَّ لقولِه الذي يقول حلاوةً، وإنَّ عليه لطَلاوةً، وإنه لمثمِرٌ أعلاه، مُغدِقٌ أسفلُه (3) ، وإنه لَيَعلُو وما يُعلَى، وإنه ليَحطِمُ ما تحتَه (4) ، قال: لا يرضى عنك قومُك حتى تقولَ فيه، قال: فدَعْني حتى أفكِّر، فلما فَكَّرَ قال: هذا سِحْرٌ يُؤثَر، يَأْثُره عن غيره، فنزلت: ﴿ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا﴾ [المدثر: 11] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3872 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی، یوں لگ رہا تھا کہ آپ کو اس پر ترس آ رہا ہے۔ یہ بات ابوجہل تک پہنچی، یہ اس کے پاس گیا اور بولا: اے چچا جان۔ آپ کی قوم آپ کے لئے چندہ جمع کر رہی ہے۔ اس نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا: تجھے دینے کے لئے کیونکہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزشتہ معاملات کا تصفیہ کرنے گیا ہے۔ اس نے کہا: تمام اہل قریش اس بات سے باخوبی آگاہ ہیں کہ میں ان سے زیادہ امیر ہوں۔ اس نے کہا: تو پھر اس کے بارے ایسی بات کر جو تیری قوم کو پہنچ جائے کہ تو اس کا منکر ہے۔ اس نے کہا: میں کیا بولوں؟ خدا کی قسم! تم میں مجھ سے بڑھ کر کوئی اشعار کو جاننے والا نہیں ہے اور نہ ہی رجز اور قصیدہ کے متعلق مجھ سے زیادہ کوئی جاننے والا ہے اور نہ جنات کے اشعار کو۔ خدا کی قسم! یہ جو کچھ بولتا ہے، اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور خدا کی قسم! وہ جو کچھ بولتا ہے، اس میں مٹھاس اور خوبصورتی ہے۔ اس کی اعلیٰ (قسم) منافع بخش ہے اور اس کی اسفل بھی سرسبز ہے اور اس کی فاتحہ غلبہ دینے والی ہے۔ اس نے کہا: تیری قوم اس وقت تک تجھ سے راضی نہیں ہو گی جب تک تو اس کے متعلق ہرزہ سرائی نہیں کرے گا۔ اس نے کہا: مجھے سوچنے کا موقع دو۔ پھر وہ سوچنے کے بعد بولا: یہ جادو ہے جو دوسروں پر اثر کر دیتا ہے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا (المدثر: 11) اسے مجھ پر چھوڑ جیسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3914]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3914 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: بقصيره. وفي "الشعب" و "الدلائل" كلاهما للبيهقي حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه: بعصيدته. والتصويب من "تلخيص الذهبي"، والقصيد من الشِّعر: ما تمَّ شطرا بِنْيته، سُمي بذلك لكماله وصحة وزنه.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "بقصیرہ" بن گیا ہے۔ بیہقی کی "الشعب" اور "الدلائل" میں (جہاں انہوں نے مصنف سے سند و متن کے ساتھ روایت کیا) یہ "بعصیدتہ" ہے۔ درست لفظ ذہبی کی "تلخیص" سے لیا گیا ہے۔ "القصید" اس شعر کو کہتے ہیں جس کی ساخت کے دونوں مصرعے مکمل ہوں، اسے یہ نام اس کے کمال اور وزن کی صحت کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
(3) في نسخنا الخطية: لمنير أعلاه يصدق أسفله. وهو خطأ. والمعنى كما في "شرح الزرقاني على المواهب اللدنية" 6/ 431: له ثمر طيب كثير، والمراد معانيه مفيدة مرشدة للسعادة، والغدق: كثرة الماء، وأراد بأسفله ما تضمَّنه من المعاني، شبَّهه لفصاحته وبلاغته بشجرة شربت عروقها ماءً غزيرًا، فأينعت ثمرتها وكَثُرت.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "لمنیر اعلاہ یصدق اسفلہ" ہے، جو کہ غلطی ہے۔ زرقانی کی شرح المواہب (6/431) کے مطابق اس کا معنی ہے: اس کا پھل پاکیزہ اور کثیر ہے (مراد یہ ہے کہ اس کے معانی مفید ہیں جو سعادت کی رہنمائی کرتے ہیں)۔ "الغدق" کا مطلب پانی کی کثرت ہے، اور "اسفلہ" (نچلے حصے) سے مراد اس کے شامل کردہ معانی ہیں؛ آپ ﷺ نے اس (قرآن) کی فصاحت و بلاغت کو اس درخت سے تشبیہ دی جس کی جڑوں نے کثیر پانی پیا ہو، تو اس کا پھل پک گیا اور زیادہ ہو گیا۔
(4) المثبت من (ص)، وفي غيرها من نسخنا الخطية: فاتحته، وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں جو ثابت ہے وہ نسخہ (ص) سے ہے، اس کے علاوہ ہمارے دیگر قلمی نسخوں میں "فاتحتہ" ہے، جو کہ "تحریف" ہے۔
(1) رجاله في الجملة ثقات، إلّا أنه قد اختُلف في وصله وإرساله عن عكرمة، والمرسَل أصح.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی مجموعی طور پر "ثقہ" ہیں، مگر عکرمہ سے اس کے "موصول" یا "مرسل" ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، اور "مرسل" ہونا زیادہ صحیح ہے۔
إسحاق بن إبراهيم: هو الدَّبَري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد "الدبری" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (133)، و "دلائل النبوة 2/ 198 - 199، والواحدي في "أسباب النزول" (842) من طريق أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (133) اور "دلائل النبوۃ" (2/198-199) میں اور واحدی نے "اسباب النزول" (842) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 328 - 329 عن معمر، عن رجل، عن عكرمة مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/328-329) میں معمر سے، انہوں نے ایک آدمی سے، انہوں نے عکرمہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه مرسلًا محمد بن ثور الصنعاني عن معمر عند الطبري في "تفسيره" 29/ 156، إلّا أنه سمَّى الرجل المبهم عبّادَ بن منصور.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے محمد بن ثور صنعانی نے معمر سے (طبری کی تفسیر 29/156 میں) "مرسلاً" روایت کیا ہے، مگر انہوں نے مبہم آدمی کا نام "عباد بن منصور" بتایا ہے۔
ورواه مرسلًا أيضًا فيما ذكر البيهقي في "الدلائل" سليمانُ بن حرب عن حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة. وحماد بن زيد أثبت الناس في أيوب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے سلیمان بن حرب نے حماد بن زید سے، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے عکرمہ سے "مرسلاً" بھی روایت کیا ہے (جیسا کہ بیہقی نے "الدلائل" میں ذکر کیا)۔ اور حماد بن زید ایوب (سے روایت کرنے) میں سب لوگوں سے زیادہ پختہ (اثبت) ہیں۔
وأخرجه مختصرًا أبو نعيم في "دلائل النبوة" (186) من طريق سفيان، عن عمرو، عن عكرمة مرسلًا. وتحرَّف في المطبوع منه إلى: سفيان بن عمرو. وسفيان: هو ابن عيينة، وعمرو: هو ابن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم نے "دلائل النبوۃ" (186) میں مختصراً سفیان سے، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں یہ تحریف ہو کر "سفیان بن عمرو" بن گیا ہے۔ یہاں سفیان سے مراد "ابن عیینہ" اور عمرو سے مراد "ابن دینار" ہیں۔
وأخرج الطبري 29/ 156 نحو الحديث المطوَّل بإسناد العوفيين عن ابن عبَّاس. وهو إسناد ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: طبری (29/156) نے طویل حدیث کی مثل "العوفیین" کی سند سے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اور یہ سند "ضعیف" ہے۔