🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
389. تفسير سورة النازعات
تفسیر سورۂ النازعات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3938
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، أخبرنا قَبيصة بن عُقْبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أبيِّ بن كعب، عن أبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب ربعُ الليل قال:"يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، جاءت الرَّاجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبي بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ [لك] من صلاتي؟ قال:"ما شئت" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3894 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رات کا ایک چوتھائی حصہ گزر جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے لوگو! اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اے لوگو! یاد کرو تھرتھرانے والی آ گئی، اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی موت آئے گی (ان تکلیفوں سمیت) جو اس میں ہیں۔ تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں تو میں آپ پر کس قدر درود پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: جتنا چاہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3938]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3938 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وقد سلف برقم (3620).
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3620) پر گزر چکی ہے۔