المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
415. عزائم السجود فى القرآن
قرآن کریم میں سجدہ تلاوت کے لازمی مقامات کا بیان
حدیث نمبر: 4000
فسمعتُ أبا على الحافظ يقول: ذِكرُ جابر في إسناده وهمٌ، فقد أخبَرَناه محمد بن إسحاق الثَّقفي، أخبرنا محمد بن عبد الملك بن زَنجوَيهِ، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني عمرُو بن دينار: أنَّ النبي ﷺ كان بحِراءٍ، فذكره (4) . الحديث الأول المتصل رواتُه كلُّهم ثقات، وإنما بنيتُ هذا الكتاب على أنَّ الزيادةَ من الثِّقة مقبولة، فأما السجودُ في ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾، فقد أخرجه مسلمٌ عن أبي الطاهر عن ابن وَهْب عن عمرو بن الحارث عن عُبيد الله بن أبي جعفر عن الأعرج عن أبي هريرة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3955 - صوابه مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3955 - صوابه مرسل
مذکورہ سند کے ہمراہ سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حراء میں تھے (اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی) ٭٭ پہلی حدیث متصل ہے اس کے تمام راوی ثقہ ہیں جبکہ میری اس کتاب کی بنیاد ہی اس چیز پر ہے کہ ثقہ کی جانب سے زیادتی مقبول ہے اور سورۃ میں جہاں تک سجدہ کا تعلق ہے تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں درج ذیل سند کے ہمراہ روایت نقل کی ہے: ” عن ابی الطاھر عن ابن وھب عن عمرو بن الحارث عن عبید اللّٰہ بن ابی جعفر عن الاعرج عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4000]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4000 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) رجاله ثقات وهو مرسل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں اور یہ "مرسل" ہے۔
وتابع ابن زنجويه على إرساله الحسنُ بن أبي الربيع في روايته لـ "تفسير عبد الرزاق" فهو فيه 2/ 384 عن معمر قال: أخبرني عمرو بن دينار والزهري: أنَّ النبي ﷺ كان بحراء، فذكره.
🧩 متابعات و شواہد: ابن زنجویہ کی اس ارسال پر حسن بن ابی ربیع نے "تفسیر عبد الرزاق" کی روایت میں متابعت کی ہے، چنانچہ اس میں (2/384) معمر سے مروی ہے کہ: مجھے عمرو بن دینار اور زہری نے خبر دی کہ نبی ﷺ حراء میں تھے... پھر اسے ذکر کیا۔
وروي مثل هذا عن عبيد بن عمير الليثي مرسلًا إلّا أنه لم يذكر حراءً وقال فيه: "جاءني جبريل وأنا نائم … "، رواه ابن إسحاق عن وهب بن كيسان عنه، وهو في "السيرة" لابن هشام 1/ 236، و "تاريخ الطبري" 2/ 300 - 301. والنَّمط: ضرب من البُسُط، والديباج: ما نُسج من أحسن الحرير.
📖 حوالہ / مصدر: عبید اللہ بن عمیر لیثی سے اسی طرح "مرسلاً" مروی ہے، مگر انہوں نے حراء کا ذکر نہیں کیا اور کہا: "میرے پاس جبرائیل آئے اور میں سویا ہوا تھا..."۔ اسے ابن اسحاق نے وہب بن کیسان کے طریق سے ان سے روایت کیا ہے، اور یہ ابن ہشام کی "السیرۃ" (1/236) اور طبری کی "تاریخ" (2/300-301) میں ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "النمط": بچھونے کی ایک قسم۔ "الدیباج": جو بہترین ریشم سے بنا ہو۔
(1) هو في "صحيح مسلم" برقم (578) (109) لكن عن حرملة بن يحيى التجيبي عن عبد الله بن وهب، وليس عن أبي الطاهر أحمد بن عمرو بن أبي السَّرْح.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "صحیح مسلم" (578/109) میں ہے لیکن حرملہ بن یحییٰ تجیبی عن عبد اللہ بن وہب کے طریق سے ہے، نہ کہ ابو طاہر احمد بن عمرو بن ابی السرح کے طریق سے۔