المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. ذكر إدريس النبى صلى الله عليه وآله وسلم - شرح: {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى}
سیدنا ادریس علیہ السلام کا ذکر — جاہلیتِ اولیٰ کی بے پردگی کی وضاحت
حدیث نمبر: 4057
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي السدوسي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا داود بن أبي الفُرات، حدثنا عِلْباء بن أحمر، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه تلا هذه الآية: ﴿وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ [الأحزاب: 33] ، قال: كانت فيما بين نوح وإدريس ألف سنة، وإِنَّ بَطنَين من ولدِ آدم كان أحدهما يَسكُن السهل، والآخرُ يسكن الجبل، وكان رجال الجبل صباحًا وفي النساء دَمامةٌ، وكانت نِساء السهل صباحًا وفي الرجال دمامةٌ، وإنَّ إبليس أتى رجلًا من أهل السهْل في صورة غُلام الرُّعاة، فجاء فيه بصوتٍ لم يسمع الناس مثله، فاتخذوا عيدًا يجتمعون إليه في السَّنَة، وإنَّ رجلًا من أهل الجبل هَجَمَ عليهم وهم في عيدهم ذلك، فرأى النساءَ وصَباحَتَهن، فأتى أصحابه فأخبرهم بذلك، فتحوّلوا إليهنّ ونَزَلُوا معهنّ، فظهرت الفاحشة فيهنّ، فذلك قول الله ﷿: ﴿وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ [الأحزاب: 33] (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4013 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4013 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی ” اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔“ اور فرمایا: سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ادریس علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار سال کا فرق ہے اور آدم علیہ السلام کی اولاد کے دو قبیلے تھے، ان میں سے ایک ہموار زمین پر آباد تھا اور دوسرا پہاڑوں پر رہتا تھا۔ پہاڑ پر رہنے والے قبیلے کے مرد خوبصورت تھے جبکہ ان کی عورتیں خوبصورت نہ تھیں اور ہموار زمین کے باشندوں کی عورتیں خوبصورت اور مرد بدصورت تھے۔ شیطان ہموار زمین والوں میں سے ایک آدمی کے پاس ایک چرواہے کے لڑکے کی صورت میں آیا اور ان کو اتنی خوبصورت آواز سنائی کہ اس جیسی آواز انہوں نے کبھی نہ سنی تھی۔ ان لوگوں نے اس کو عید بنا لیا اور سال میں ایک مرتبہ وہاں پر جمع ہونے لگ گئے اور پہاڑ والوں میں سے ایک آدمی اچانک وہاں پر آیا، اس وقت وہ لوگ اپنے اسی میلے میں تھے۔ اس نے ان کی عورتوں اور ان کی خوبصورتی کو دیکھا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان کو اس بات کی خبر دی چنانچہ ان کے مرد ان عورتوں کی طرف آئے اور میلے میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ اس طرح ان میں برائیاں پھیل گئیں۔ یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول:” وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی “ کا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4057]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4057 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي كما قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 14/ 151.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (14/151) میں کہا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5068)، ومن طريقه ابن عساكر 62/ 279 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 22/ 4، وفي "تاريخه" 1/ 166 - 167 عن أحمد بن زهير، عن موسى بن إسماعيل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (5068) میں - اور ان کے طریق سے ابن عساکر (62/279) نے - ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور طبری نے تفسیر (22/4) اور تاریخ (1/166-167) میں احمد بن زہیر سے، انہوں نے موسیٰ بن اسماعیل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
والصباح: جمع صبيح أو صبيحة، وهو الجميل الوضيء الوجه.
📝 نوٹ / توضیح: "الصباح": یہ "صبیح" یا "صبیحہ" کی جمع ہے، اور اس کا مطلب ہے خوبصورت روشن چہرے والا۔