🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. لم يبعث نبي قط بعد لوط إلا فى ثروة من قومه
سیدنا لوط علیہ السلام کے بعد کوئی نبی ایسی قوم میں نہیں بھیجا گیا جو مال و دولت میں کمزور ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4098
حدثنا أحمد بن يعقوب وعبد الله بن محمد بن موسى الصَّيدلاني، قالا: حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، في قوله ﷿: ﴿أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [هود:80] ، قال: قال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ اللهُ لوطًا، كان يأوي إلى رُكْنٍ شديد، وما بعث الله بعده نبيًا إلّا في ثَروةٍ من قومه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذه الزيادة، إنما اتفقا على حديث الزهري عن سعيد وأبي عُبيد عن أبي هريرة مختصرًا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4054 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ﴾ [سورة هود: 80] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، وہ ایک مضبوط سہارے (یعنی اللہ تعالیٰ) کی پناہ لیتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد جو بھی نبی بھیجا تو اسے اس کی قوم کے ایک معزز اور کثیر کنبے (طاقتور قبیلے) میں بھیجا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا زہری کی حدیث پر اتفاق ہے جو وہ سعید اور ابوعبید سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4098]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: "وما بعث الله نبيًا … " وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: "وما بعث الله نبيًا … "
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4098 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) حديث صحيح دون قوله: "وما بعث الله نبيًا … " وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سوائے ان الفاظ کے: "اور اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا..."۔ اور یہ سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 14 / (8987) و 16 / (10903) من طريق حمّاد بن سلمة، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 14/ (8392) و 16 / (10903)، والترمذي (3116)، وابن حبان (6207) من طرق عن محمد بن عمرو، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8987) و 16/ (10903) نے حماد بن سلمہ کے طریق سے، اور ترمذی (3116)، ابن حبان (6207) وغیرہ نے محمد بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے۔
(1) أخرجه البخاري (3387)، ومسلم (151)، وهو أيضًا عند البخاري (3372) و (4694)، ومسلم (151) من طريق أبي سلمة وسعيد بن المسيب، وعند البخاري (3375)، ومسلم (2370) (153) من طريق الأعرج عن أبي هريرة. ليس في شيء من هذه الطرق قوله: "وما بعث الله نبيًا .... " إلى آخره.
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث بخاری (3387) اور مسلم (151) میں موجود ہے۔ نیز بخاری (3372، 4694) اور مسلم (151) میں ابو سلمہ اور سعید بن مسیب کے طریق سے، اور بخاری (3375) و مسلم (2370) میں اعرج عن ابی ہریرہ کے طریق سے مروی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ان میں سے کسی بھی طریق میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں: "وما بعث اللہ نبیًا..." آخر تک۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4098 in Urdu