🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. ذكر يوسف بن يعقوب صلوات الله عليهما
حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4128
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص، قال: جاء أسماء بن خارجة باب عبد الله بن مسعود، فقال: أنا ابن الأشياخ الكِرام، فقال عبد الله بن مسعود: ذاك يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4084 - صحيح
سیدنا ابوالاحوض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسماء بن خارجہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور بولے: میں باعزت بزرگوں کا بیٹا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تو سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4128]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4128 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو اسحاق سے مراد عمرو بن عبد اللہ سبیعی ہیں، اور ابو الاحوص سے مراد عوف بن مالک اشجعی ہیں۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 55، والطبري في "تفسيره" 23/ 81، وفي "تاريخه" 1/ 264، وابن أبي حاتم في ""تفسيره" 7/ 2145، والطبراني في "الكبير" (8916)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 52 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 2/ 55 میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 23/ 81 اور "تاریخ" 1/ 264 میں، ابن ابی حاتم نے "تفسیر" 7/ 2145 میں، طبرانی نے "الکبیر" (8916) میں، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 9/ 52 میں شعبہ کے کئی طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔