علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. ذكر يوسف بن يعقوب صلوات الله عليهما
حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 4128
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص، قال: جاء أسماء بن خارجة باب عبد الله بن مسعود، فقال: أنا ابن الأشياخ الكِرام، فقال عبد الله بن مسعود: ذاك يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4084 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4084 - صحيح
ابوالاحوص رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اسماء بن خارجہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے اور کہنے لگے: ”میں معزز اور بزرگوں کا بیٹا ہوں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ (شرف تو صرف) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) کا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4128]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4128]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4128 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو اسحاق سے مراد عمرو بن عبد اللہ سبیعی ہیں، اور ابو الاحوص سے مراد عوف بن مالک اشجعی ہیں۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 55، والطبري في "تفسيره" 23/ 81، وفي "تاريخه" 1/ 264، وابن أبي حاتم في ""تفسيره" 7/ 2145، والطبراني في "الكبير" (8916)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 52 من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" 2/ 55 میں، طبری نے اپنی "تفسیر" 23/ 81 اور "تاریخ" 1/ 264 میں، ابن ابی حاتم نے "تفسیر" 7/ 2145 میں، طبرانی نے "الکبیر" (8916) میں، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 9/ 52 میں شعبہ کے کئی طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4128 in Urdu