المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. ذكر نبي الله يونس بن متى - عليه الصلاة والسلام - وهو الذى سماه الله ذا النون
اللہ کے نبی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر، جنہیں اللہ نے ذوالنون فرمایا
حدیث نمبر: 4167
حدثني أبو بكر بن إسحاق من أصل كتابه، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا المُعافَى بن سليمان، حدثنا فُلَيح بن سليمان، عن هِلال بن علي، عن عطاء بن يَسار، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"من قال: إنِّي خَيرٌ من يونس بن مَتَّى، فقد كَذَبَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما اتفقا على حديث أبي العَالِية عن ابن عبّاس:"لا يَنبغي لأحدٍ أن يقول: إني خَيرٌ من يُونسَ بن مَتّى" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4122 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما اتفقا على حديث أبي العَالِية عن ابن عبّاس:"لا يَنبغي لأحدٍ أن يقول: إني خَيرٌ من يُونسَ بن مَتّى" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4122 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس نے مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے افضل کہا، اس نے جھوٹ بولا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوالعالیہ کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے ” کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے افضل کہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4167]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4167 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فُليح بن سليمان، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند حسن ہے، فلیح بن سلیمان کی وجہ سے، اور ان کی متابعت بھی کی گئی ہے۔
وأخرجه البخاري (2604) عن محمد بن سنان، و (4805) من طريق محمد بن فُليح بن سليمان، كلاهما عن فُليح، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (2604) میں محمد بن سنان سے، اور (4805) میں محمد بن فلیح بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں فلیح سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اس حدیث پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه بهذا اللفظ أيضًا أحمد 15/ (9821)، وابن ماجه (4274)، والترمذي (3245)، وابن حبان (7311) من طريق محمد بن عمرو بن علقمة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی لفظ کے ساتھ احمد 15/ (9821)، ابن ماجہ (4274)، ترمذی (3245)، اور ابن حبان (7311) نے محمد بن عمرو بن علقمہ سے، انہوں نے ابو سلمہ سے، انہوں نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔
وإسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 15/ (9255) و 16 / (10043) و (10952)، والبخاري (3416) و (4631)، ومسلم (2376)، وابن حبان (6238) من طريق حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبي هريرة، مرفوعًا بلفظ: "لا ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن مَتّى".
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 15/ (9255)، 16/ (10043) اور (10952)، بخاری (3416) اور (4631)، مسلم (2376)، اور ابن حبان (6238) نے حمید بن عبد الرحمن بن عوف کے طریق سے ابو ہریرہ سے مرفوعاً اس لفظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "کسی بندے کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔"
(3) أخرجه البخاري (3395)، ومسلم (2377).
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3395) اور مسلم (2377) نے روایت کیا ہے۔