المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. الأمر بتوقير العالم
عالم کی تعظیم و احترام کا حکم۔
حدیث نمبر: 419
أخبرنا أبو الحسن ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البَرَاء بن عازِب: قال خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلحَدْ، فجَلَسَ رسولُ الله ﷺ وجلسنا حولَه كأنَّ على رؤوسِنا الطيرَ، وذَكَرَ الحديث (1) . قد ثبت صحَّةُ هذا الحديث في كتاب الإيمان، وأنهما لم يخرجاه.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم آپ کے گرد (ایسے ادب و سکون سے) بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (کہ ذرا سی حرکت سے اڑ جائیں گے)۔
یہ حدیث کتاب الایمان میں صحیح ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 419]
یہ حدیث کتاب الایمان میں صحیح ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 419]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 419 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار. وقد سلف الحديث في كتاب الإيمان برقم (107).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور اس کی سند احمد بن عبد الجبار کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ حدیث پہلے "کتاب الایمان" میں نمبر (107) پر گزر چکی ہے۔