🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. بشارة ولادة يحيى بن زكريا عليهما السلام
حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کی ولادت کی بشارت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4191
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن أبي مالك وأبي صالح، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّةَ الهَمْداني، عن عبد الله، قال: ﴿دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ﴾ [آل عِمران: 38] سرًّا، فقال: ﴿رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ [مريم: 4 - 5] وهم العَصَبة، ﴿وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ﴾ يقول: يَرِثُ نبوَّتي ونبوَّة آلِ يعقوب ﴿وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا﴾ [مريم: 6] ، وقوله: ﴿هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً﴾ يقول: مباركة: ﴿إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ﴾ [آل عمران:38] وقال: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ [الأنبياء: 89] ﴿فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ﴾ وهو جبريلُ ﴿وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ﴾ [آل عِمران: 39] ﴿بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 7] لم يُسمَّ قبله أحدٌ يحيى، وقالت الملائكةُ: ﴿أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ يُصَدِّقُ بعيسى ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [آل عِمران:39] ، والحَصُور: الذي لا يُريد النساءَ، فلما سَمِعَ النداءَ جاءه الشيطانُ، فقال له: يا زكريا، إن الصوتَ الذي سمعتَ ليس من الله، إنما هو من الشيطان سَخِرَ بك، ولو كان من الله أوحاهُ إليك كما يُوحي إليك غيرَه من الأمر، فشكَّ مكانَه، وقال: ﴿أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ﴾ يقول: من أين ﴿وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾ [آل عِمران: 40] ﴿وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا﴾ [مريم: 19] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4146 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تنہائی میں دعا مانگی اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر میں چاندی آ گئی ہے اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔ وہ عصبہ (قریبی مرد رشتہ دار) ہیں اور میری عورت بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے، وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب علیہ السلام کا وارث ہو اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر۔ وہ یہ بھی دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد، بے شک تو ہی دعا سننے والا۔ اور کہا: اے اللہ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہتر وارث ہے۔ تو فرشتوں نے ان کو آواز دی۔ یہ سیدنا جبریل علیہ السلام تھے، اس وقت سیدنا زکریا علیہ السلام اپنی نماز کی جگہ نماز پڑھ رہے تھے (یہ آواز دی) بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام یحیی علیہ السلام ہو گا اور اس سے پہلے کبھی کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔ اور فرشتوں نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحیی علیہ السلام کا جو اللہ تعالیٰ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا اور سردار اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا۔ جب آپ نے یہ آواز سنی تو آپ کے پاس شیطان آیا اور بولا: اے زکریا! تم نے جو یہ آواز سنی ہے یہ من جانب اللہ نہیں ہے بلکہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو جس طرح آپ پر اور دیگر انبیاء پر وحی آتی ہے اس انداز میں آتی۔ تو سیدنا زکریا علیہ السلام کو شک پیدا ہو گیا اور کہنے لگے: میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا؟ جبکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے، میں نے تجھے پیدا کیا جبکہ تو کچھ نہ تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4191]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4191 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري، وأبو صالح: هو باذام مولى أم هانئ، ومُرّة الهَمْداني: هو ابن شراحيل.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، اسباط اور سدی کی وجہ سے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو مالک سے مراد غزوان غفاری، ابو صالح سے مراد باذام (مولیٰ ام ہانی) اور مرہ ہمدانی سے مراد مرہ بن شراحیل ہیں۔
وأخرجه مُفرَّقًا الطبري في "تفسيره" 3/ 247 - 248 و 257 و 258 و 16/ 45 - 46 و 50 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو بن حماد بن طلحة، عن أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، ولم يجاوزه. وقد قدَّمنا عند الخبر (4124) أنَّ موسى بن هارون كان عنده النسخة المسندة من تفسير السُّدِّي بذكر شيوخه، لكن الطبري كان يحذف شيوخه اختصارًا، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" میں متفرق مقامات (3/ 247، 257، 258 اور 16/ 45، 50) پر موسیٰ بن ہارون ہمدانی کے طریق سے روایت کیا ہے جو عمرو بن حماد سے اور وہ اسباط سے، وہ سدی سے روایت کرتے ہیں اور اسے (موقوفاً) سدی پر ہی ختم کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جیسا کہ ہم نے روایت (4124) کے تحت بتایا کہ موسیٰ بن ہارون کے پاس سدی کی تفسیر کا وہ نسخہ تھا جس میں شیوخ کے نام درج تھے، لیکن امام طبری اختصار کی خاطر شیوخ کے نام حذف کر دیتے تھے۔