المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. ذكر خضاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالحناء
رسول اللہ ﷺ کے حنا لگانے کا ذکر
حدیث نمبر: 4250
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا أبو مُسلِم، أَنَّ حجَّاج بن مِنْهَالٍ، حدَّثَهم، قال: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، قال: قيل لأنس: ما كان شيبُ النبيِّ ﷺ؟ قال: ما شانَهُ اللهُ بالشَّيبِ، ما كان في رأسِهِ إِلَّا تسعَ عشرةَ أو ثمانَ عشرةَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهذه اللفظة إنما اشتَهَرتْ بعائشةَ ﵂، وهي من قولِ أنسٍ غريبةٌ جِدًّا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4205 - على شرط مسلم وهو غريب
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهذه اللفظة إنما اشتَهَرتْ بعائشةَ ﵂، وهي من قولِ أنسٍ غريبةٌ جِدًّا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4205 - على شرط مسلم وهو غريب
ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے بال سفید تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے (کی زیادتی) سے محفوظ رکھا تھا، آپ کے سر مبارک میں صرف انیس یا اٹھارہ بال سفید تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ الفاظ (اللہ نے آپ کو بڑھاپے سے محفوظ رکھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تو مشہور ہیں لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر یہ بہت غریب (منفرد) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4250]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ الفاظ (اللہ نے آپ کو بڑھاپے سے محفوظ رکھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تو مشہور ہیں لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر یہ بہت غریب (منفرد) ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4250]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكَجِّي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 4250] [ترقيم الشركة 4227] [ترقيم العلميه 4205]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4250 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكَجِّي، وثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابومسلم سے مراد ابراہیم بن عبد اللہ بن مسلم الکجی ہیں، اور ثابت سے مراد (مشہور تابعی) ثابت بن اسلم البُنانی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: (2)
وأخرجه أحمد 21/ (13662)، وابن حبان (6292) من طريقين عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند 21/ (13662) میں اور ابن حبان نے (6292) میں حماد بن سلمہ کے واسطے سے دو طرق (راستوں) سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 19/ (12474) من طريق أبي يعقوب إسحاق بن عثمان الكلابي، عن ثابت، قال: سألتُ أنسًا: هل شَمِطَ رسول الله ﷺ؟ قال: لقد قبض الله ﷿ رسوله ﷺ وما فضحه بالشيبِ، ما كان في رأسه ولحيته يوم مات ثلاثون شعرة بيضاء. وهذه رواية شاذّة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک شاذ (غیر مقبول) روایت ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 19/ (12474) میں ابو یعقوب اسحاق بن عثمان الکلابی کے طریق سے ثابت کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے بال سفید ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ کی روح قبض فرمائی تو آپ کو بڑھاپے (سفیدی) کے ذریعے عیب دار نہیں کیا تھا، جس دن آپ کی وفات ہوئی آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں تیس (30) سفید بال بھی نہیں تھے۔
وانظر تمام تخريجه وطرقه التي اشتملت على معناه برقم (4260).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی مکمل تخریج اور وہ تمام طرق جو اس کے ہم معنی ہیں، ان کی تفصیل کے لیے نمبر (4260) ملاحظہ فرمائیں۔
(3) كذا جزم المصنِّفُ بغرابة هذه اللفظة من قول أنس، واشتهارها بعائشة، والأمر بخلاف ما ذَكَرَ، فقد ورد ذكرُ معناها من طريق حميد الطويل عن أنس عند أحمد 20/ (12054) بلفظ: لم يُشَنْ بالشيب. ومن طريق أبي إياس عن أنس عند مسلم (2341) بلفظ عائشة المتقدم قبله تمامًا، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے الفاظ کے "غریب" (اجنبی) ہونے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کے مشہور ہونے کا جو حتمی فیصلہ دیا ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: کیونکہ اس کے ہم معنی الفاظ حمید الطویل کے طریق سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے امام احمد 20/ (12054) کے ہاں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہیں: "لم يُشَنْ بالشيب" (آپ کو بڑھاپے نے عیب دار نہیں کیا تھا)۔ نیز ابو ایاس کے طریق سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے امام مسلم (2341) کے ہاں بالکل وہی الفاظ مروی ہیں جو اس سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں گزر چکے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 📖 حوالہ / مصدر: (3)
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4250 in Urdu