🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. يد المعطي العليا وابدأ بمن تعول
دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور خرچ کی ابتدا اپنے زیرِ کفالت افراد سے کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4266
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا أبو كُريب، حدثنا مُصعَب بن المِقْدام، حدثنا إسرائيل، عن عُثمان بن المُغِيرة، عن سالم، عن جابر، قال: كانَ رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ نفسَه على الناسِ بالمَوقِف، فيقول:"هَل مِن رجلٍ يَحمِلُني إلى قومِه، فإنَّ قريشًا قد مَنعُونِي أَن أُبَلِّغَ كلامَ رَبِّي؟" قال: فأتاهُ رجلٌ من بني هَمْدَان، فقال: أنا، فقال:"وهل عند قومِك مَنَعَةٌ؟" وسأله:"مِن أينَ هُو؟" فقال: من هَمْدَان، ثم إِنَّ الرجل الهَمْدَانيَّ خشيَ أن يُخفِرَه قومُه، فأتى رسولَ الله ﷺ فقال: آتِيْهم فأخبِرُهم، ثم ألْقاكَ من عامٍ قابِلٍ، قال:"نعم"، وانطلق، فجاء وَفْدُ الأنصارِ في رَجَب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. آخر كتاب المبعث [كتاب المَسرى] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شوال سنة إحدى وأربع مئة: كتاب المَسْرى، وفيه أخبار بزيادات صحيحة الأسانيد، فلم أُخرجها؛ إذ الأصلُ في المِعراجِ قد خَرَّجاه بأسانيدَ كثيرة. [ [كتاب دلائل النبوة] ] ومن كتاب آياتِ رسول الله ﷺ التي هي دلائل النبوّة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4220 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موقف (میدان عرفات) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا: کوئی آدمی ایسا ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے احکام الٰہی کی تبلیغ سے روک دیا ہے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: بنی ہمدان سے ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تیری قوم کے پاس فوج ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ان کا تعلق کہاں سے ہے؟ اس نے کہا: وہ بھی ہمدان کے ہی رہنے والے ہیں۔ پھر ہمدانی آدمی کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کے ساتھ بے وفائی نہ کر دے۔ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میں اپنی قوم میں جا کر ان کو بتاتا ہوں پھر اگلے سال آپ سے ملوں گا۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ آدمی چلا گیا پھر انصار کا وفد رجب میں آیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4266]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4266 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل مصعب بن المقدام، فهو لا بأس به، وقد توبع. أبو كُريب: هو محمد بن العلاء الهَمْداني، وإسرائيل: هو ابن يونس السَّبيعي، وسالم: هو ابن أبي الجَعْد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند مصعب بن المقدام کی وجہ سے "قوی" ہے، کیونکہ ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ) اور ان کی متابعت موجود ہے۔ ابو کریب سے مراد محمد بن العلاء الہمْدانی ہیں، اسرائیل سے مراد ابن یونس السبیعی ہیں، اور سالم سے مراد ابن ابی الجعد ہیں۔
وأخرجه أحمد 23/ (15192) عن أسود بن عامر، وأبو داود (4734)، والترمذي (2925) من طريق محمد بن كثير العبدي، وابن ماجه (201)، والنسائي (7680) من طريق عبد الله بن رجاء، ثلاثتهم عن إسرائيل، بهذا الإسناد. لكن لفظ روايتي محمد بن كثير وعبد الله بن رجاء مختصر إلى قوله: "كلام ربي".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 23/ (15192) نے اسود بن عامر سے، ابوداؤد (4734) اور ترمذی (2925) نے محمد بن کثیر العبدی کے طریق سے، ابن ماجہ (201) اور نسائی (7680) نے عبد اللہ بن رجاء کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں (اسود، محمد، عبد اللہ) اسے اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: لیکن محمد بن کثیر اور عبد اللہ بن رجاء کی روایت کے الفاظ مختصر ہیں، صرف "کلام ربی" (میرے رب کا کلام) تک۔
وسيأتي نحوه برقم (4297) من طريق أبي الزُّبَير عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اس جیسی روایت عنقریب نمبر (4297) میں ابو الزبیر کے طریق سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے آئے گی۔
0
0