المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. استغفار آدم عليه السلام بحق محمد صلى الله عليه وآله وسلم
حضرت آدم علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے استغفار کرنا
حدیث نمبر: 4275
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا قُرادٌ أبو نُوح، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبي موسى، قال: خرج أبو طالبٍ إلى الشام، وخرج معه رسولُ الله ﷺ في أشياخٍ من قريش، فلما أشرفُوا على الراهِبِ هبَطُوا، فحوَّلُوا رحالَهم، فخرج إليهم الراهبُ، وكانوا قبلَ ذلك يَمرُّون به فلا يخرج إليهم ولا يَلتفِتُ، قال: وهم يَحُلُّون رحالَهم، فجعل يتخلَّلُهم حتى جاء فأخذَ بيدِ رسولِ الله ﷺ، قال: هذا سيّدُ العالَمين، هذا رسولُ ربِّ العالَمين، هذا يبعثُه اللهُ رحمةً للعالَمين، فقال له أشياخٌ من قريش: وما عِلْمُك بذلك؟ قال: إنكم حين أشرفتُم من العَقبةِ لم يَبْقَ شجرٌ ولا حجرٌ إِلَّا خَرَّ ساجدًا، ولا تَسجدُ إِلَّا لِنبيٍّ، وإني أعرفُه خاتَمُ النبوة أسفل من غُضروف كتفِه مثلُ التفّاحة، ثم رجع فَصَنَع لهم طعامًا ثم أتاهم، وكان رسول الله ﷺ في رِعْية الإبل، قال: أرسِلُوا إليه، فأقبلَ وعليه غَمامةٌ تُظِلُّه، قال: انظُروا إليه، غَمامةٌ تُظلُّه، فلما دنا من القوم وَجَدَهُم قد سَبَقُوه إلى فَيْء الشجرة، فلما جلسَ مال فيءُ الشجرة عليه، قال: انظُروا إلى فيء الشجرة مالَ عليه، فبينما هو قائم عليه وهو يُناشِدُهم أَن لا تَذْهَبُوا به إلى الروم، فإنَّ الرومَ إن رأوه عرفُوه بالصِّفة فقتلوه. فالتفتَ فإذا هو بسبعةٍ نفرٍ قد أقبَلُوا من الروم فاستقبَلَهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا، فإنَّ هذا النبيَّ خارجٌ في هذا الشهر فلم يَبْقَ طريقٌ إِلَّا قد بُعث ناسٌ، وإنا بُعِثْنا إلى طريقِه هذا، فقال لهم الراهبُ: هل خَلَّفتُم خَلْفَكم أحدًا هو خيرٌ منكم؟ قالوا: لا، قالوا: إنما أُخبرنا خَبَرَه، بُعِثنا لطريقك هذا، قال: أفرأيتُم أمرًا أراده اللهُ أن يَقضِيَه، هل يستطيعُ أحدٌ من الناس ردَّه؟ قالوا: لا، قال: فبايِعُوه، فبايَعُوه وأقامُوا معه، قال: فأتاهم الراهبُ، فقال: أنشُدُكُمُ الله أَيكُم وَليُّه، قالوا: أبو طالب، فلم يَزَلْ يُناشِدُه حتى ردَّه وبعثَ معه أبو بكر بلالًا، وزَوّدَه الراهبُ من الكَعْك والزيتِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوطالب شام کے سفر پر روانہ ہوئے اور چند قریشی بزرگوں کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ یہ لوگ راہب کے پاس گئے اور اپنی سواریوں کو ابھی باندھ رہے تھے کہ راہب خود چل کر ان کے پاس آیا، حالانکہ یہ لوگ پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے تو نہ وہ کبھی خود چل کر ان کے پاس آیا اور نہ کبھی انہیں زیادہ اہمیت دی (راوی) کہتے ہیں۔ یہ لوگ ابھی اپنی سواریاں کھول رہے تھے کہ وہ خود ان کے اندر آ گھسا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کا ہاتھ مبارک تھام کر بولا:” سیدالعالمین “ ہے۔ یہ رسول رب العالمین، اللہ تعالیٰ ان کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گا تو اشیاخ، قریش نے اس سے کہا: تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا: تم جب اس پہاڑی پر چڑھے تو ہر درخت اور ہر پتھر سجدہ ریز ہو گیا تھا اور یہ نبی کے علاوہ کسی کے آگے سجدہ نہیں کرتے اور میں اس کو اس مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھوں کے نیچے کی طرف ہے۔ پھر وہ واپس گیا اور ان سب کے لئے کھانا تیار کر کے لایا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے چرواہوں میں تھے۔ اس نے کہا: آپ کو بلائیں۔ جب آپ ان کی طرف آ رہے تھے تو ایک بادل مسلسل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا، جب آپ قوم کے قریب تشریف لائے تو سب لوگ درختوں کے سائے میں بیٹھ چکے تھے۔ جب آپ بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی جانب جھک گیا۔ راہب نے کہا: دیکھو درخت کا سایہ ان کی جانب جھکا جا رہا ہے۔ اس دوران وہ راہب قریش کو تاکیدیں کرتا رہا کہ تم لوگ ان کو روم کی جانب مت لے کر جاؤ کیونکہ اہل روم نے اگر ان کو دیکھ لیا تو وہ ان کی نشانیوں سے ان کو پہچان لیں گے اور وہ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔ اچانک وہاں پر روم کی طرف سے سات آدمی آ پہنچے۔ راہب نے ان سے ملاقات کی اور ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ بولے: ہم اس لئے آئے ہیں کہ یہ نبی اس شہر کے باہر کہیں ہے اور شہر کے تمام راستوں پر لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے اور ہمیں اس راستہ پر بھیجا گیا ہے۔ راہب نے ان سے کہا: کیا تم اپنے پیچھے کسی ایسے شخص کو چھوڑ کر آئے ہو جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو اس کی خبر ملی تھی، اسی لئے ہمیں تمہارے اس راستے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کسی میں یہ طاقت ہے کہ اس کو روک سکے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ راہب نے کہا: تو پھر ان کی بیعت کر لو اور ان کے ہمراہ ٹھہر جاؤ۔ (راوی) کہتے ہیں۔ پھر راہب قریش کے پاس آیا اور بولا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ تم میں ان کا سرپرست کون ہے؟ ابوطالب نے کہا: میں ہوں۔ راہب نے ابوطالب سے بہت اصرار کیا۔ بالآخر سیدنا ابوطالب نے آپ کو سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال کی معیت میں واپس بھیج دیا۔ راہب نے ان کو کیک اور زیتون زادراہ کے طور پر پیش کئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4275]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4275 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر منكر جدًّا، قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 503: حديث منكر جدًّا، وأين كان أبو بكر؟! كان ابنَ عشر سنين، فإنه أصغر من رسول الله ﷺ بسنتين ونصف، وأين كان بلال في هذا الوقت؟! فإنَّ أبا بكر لم يشتره إلا بعد المبعث ولم يكُن وُلد بعدُ، وأيضًا فإذا كان عليه غمامة تُظِلُّه كيف يُتصوَّر أن يميل فيءُ الشجرة؟! لأنَّ ظل الغمامة يُعدِم فيء الشجرة التي نزل تحتها، ولم نر النبيّ ﷺ ذكَّر أبا طالب قطُّ بقول الراهب، ولا تذاكرته قريش ولا حكَتْه أولئك الشيوخ، مع توفّر هممهم ودواعيهم على حكاية مثل ذلك، فلو وقع لاشتَهَرَ بينهم أيَّما اشتهارٍ، ولبقي عنده ﷺ حِسٌّ من النبوة، ولما أَنكر مجيء الوحي إليه، أوّلًا بغار حراء وأتى خديجة خائفًا على عقله، ولما ذهب إلى شواهق الجبال ليرمي نفسه ﷺ، وأيضًا فلو أثَّر هذا الخوف في أبي طالب وردَّه كيف كانت تطيب نفسه أن يُمكِّنه من السفر إلى الشام تاجرًا لخديجة؟
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "سخت منکر" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "تاریخ الاسلام" 1/ 503 میں فرمایا: یہ حدیث "منکر جداً" ہے۔ (اس واقعے میں) ابوبکر کہاں سے آگئے؟ وہ تو اس وقت دس سال کے تھے کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ڈھائی سال چھوٹے تھے۔ اور بلال اس وقت کہاں تھے؟ ابوبکر نے تو انہیں بعثت کے بعد خریدا تھا، بلکہ شاید وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ نیز اگر بادل آپ ﷺ پر سایہ کر رہا تھا تو درخت کا سایہ جھکنے کا کیا مطلب؟ کیونکہ بادل کا سایہ تو درخت کے سائے کو ختم کر دیتا ہے۔ پھر ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی ﷺ نے ابوطالب کو اس راہب کی بات یاد دلائی ہو، نہ قریش نے اس کا تذکرہ کیا حالانکہ ایسے واقعات بیان کرنے کا رواج تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ بہت مشہور ہوتا۔ اور آپ ﷺ کو نبوت کا کچھ تو احساس باقی رہتا اور آپ غارِ حرا میں وحی آنے پر اس کا انکار نہ کرتے یا اپنی عقل پر خوفزدہ ہو کر خدیجہ کے پاس نہ آتے، نہ ہی پہاڑوں کی چوٹیوں پر خود کو گرانے جاتے۔ اور اگر ابوطالب کو واقعی اتنا خوف ہوتا اور وہ آپ کو واپس بھیج دیتے، تو پھر بعد میں خدیجہ کا مال لے کر شام جانے کی اجازت کیسے دے دیتے؟
قال: وفي الحديث ألفاظ منكرة تشبه ألفاظ الطُّرقية، مع أنَّ ابن عائذ روى معناه في "مغازيه" دون قوله: وبعث معه أبو بكر بلالًا .. إلى آخره، فقال: حدثنا الوليد بن يسلم، قال: أخبرني أبو داود سليمان بن موسى، فذكره بمعناه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (ذہبی نے) فرمایا: حدیث میں ایسے منکر الفاظ ہیں جو "قصہ گو لوگوں" (طرقیہ) کے الفاظ سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ابن عائذ نے "مغازی" میں اس کا مفہوم روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ "ابوبکر نے ان کے ساتھ بلال کو بھیجا..."۔ انہوں نے ولید بن مسلم سے، انہوں نے ابوداؤد سلیمان بن موسیٰ سے اسے (بغیر ان الفاظ کے) بامعنی روایت کیا۔
ثم أورده الذهبي عن جماعة من أهل المغازي والسير بألفاظ مغايرة لهذا اللفظ الذي هنا.
🧾 تفصیلِ روایت: پھر ذہبی نے اسے اہلِ مغازی اور سیر کی ایک جماعت سے ایسے الفاظ میں نقل کیا جو یہاں مذکور الفاظ سے مختلف ہیں۔
وذكر أنَّ الذي تفرد به بهذا اللفظ هو قُرادٌ أبو نوح - واسمه عبد الرحمن بن غزوان - وذكر في ترجمته في "السير" 9/ 518 أنَّ له ما ينكر، ومن ذلك حديث لا يُحتمل في قصة النبي ﷺ وبَحيرا بالشام. يعني هذا الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اور ذکر کیا کہ ان خاص الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں "قراد ابو نوح" (عبد الرحمٰن بن غزوان) منفرد ہیں۔ ذہبی نے "السیر" 9/ 518 میں ان کے ترجمے میں لکھا کہ ان کی کچھ روایات منکر ہیں، اور ان میں سے ایک یہ حدیث ہے جو نبی ﷺ اور بحیرا کے قصے میں ہے جو "ناقابلِ قبول" (لا یحتمل) ہے، اور اس سے مراد یہی حدیث ہے۔
وممن أنكر هذا الحديثَ على فُرادٍ أيضًا ابن سيد الناس في "عيون الأثر" 1/ 55، وابنُ كثير في "البداية والنهاية" 3/ 440، وابن حجر في "الإصابة" 1/ 353، وأعلُّوه ببعض ما أعله به الذهبي من وجوه النكارة في بعض ألفاظه.
📌 اہم نکتہ: جن لوگوں نے قراد کی اس حدیث پر انکار کیا ہے ان میں ابن سید الناس ("عیون الاثر" 1/ 55)، ابن کثیر ("البدایۃ والنہایۃ" 3/ 440) اور ابن حجر ("الاصابۃ" 1/ 353) شامل ہیں۔ ان سب نے اس پر وہی "علّتیں" لگائی ہیں جو ذہبی نے اس کے بعض الفاظ کی "نکارت" کے حوالے سے بیان کی ہیں۔
وورى ابن عساكر في "تاريخه" 3/ 5 عن العباس بن محمد الدُّوري أنه سمعه من قرادٍ أحمدُ بن حنبل ويحيى بن مَعِين، وأنهما قالا: سمعناه من قُرادٍ لأنه من الغرائب والأفراد. قلنا: يعني أنهما رَوياه مُستغربَين لا مُحتَجَّين به.
📖 حوالہ / مصدر: ابن عساکر نے "تاریخ" 3/ 5 میں عباس بن محمد الدوری سے روایت کیا کہ احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے اسے قراد سے سنا، اور ان دونوں نے کہا: "ہم نے اسے قراد سے اس لیے سنا کیونکہ یہ 'غرائب اور افراد' میں سے ہے۔" 📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اسے بطور "استغراب" (عجیب و غریب ہونے کی وجہ سے) روایت کیا، نہ کہ اس سے "حجت" پکڑنے کے لیے۔
وأخرجه الترمذي (3620) عن الفضل بن سهل أبي العباس الأعرج، عن عبد الرحمن بن غزوان قراد، بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب!
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (3620) میں فضل بن سہل (ابوالعباس الاعرج) سے، انہوں نے عبد الرحمٰن بن غزوان (قراد) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور (ترمذی نے تعجب کے ساتھ) فرمایا: "حسن غریب"!