المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. بيتوتة على على فراش رسول الله عند خروجه للهجرة
ہجرت کے وقت حضرت علیؓ کا رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سونا
حدیث نمبر: 4309
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا زياد بن الخليل التُّستَري، حدثنا كَثير بن يحيى، حدثنا أبو عَوانة، عن أبي بَلْجٍ، عن عمرو بن مَيمون، عن ابن عبّاس قال: شَرَى عليٌّ نفسَه ولبس ثوبَ النبي ﷺ، ثم نام مكانَه، وكان المشركون يَرمُون رسولَ الله ﷺ، وقد كان رسولُ الله ﷺ ألبَسَه بُرْدَه، وكانت قريش تريدُ أن تقتلَ النبيَّ ﷺ، فجعلوا يَرمُون عليًا، ويُرَونه النبيَّ ﷺ وقد لبِسَ بُرْدَه، وجعلَ عليّ يَتَصَوَّرُ، فإذا هو عليٌّ، فقالوا: إنك لَلَئيمٌ، إنك لَتتضوَّر وكان صاحبُك لا يَتضوَّر، ولقد استَنْكرناه منكَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وقد رواه أبو داود الطَّيَالسيُّ وغيرُه عن أبي عَوانة، بزيادةِ ألفاظٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4263 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی بازی لگا دی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر اوڑھ کر ان کی جگہ لیٹ گئے۔ (اس سے قبل) مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں دیا کرتے تھے۔ (ہجرت کی رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر اوڑھا دی تھی۔ جبکہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (معاذاللہ) شہید کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہوئے اذیت دینا شروع کیں، (ان کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچ و تاب کھانے لگے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس کیفیت سے) ان کو اندازہ ہوا کہ یہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہیں بلکہ یہ تو) علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ تب وہ بولے: تم کمینے ہو، تم تڑپ رہے ہو، جبکہ تمہارا ساتھی تو اس طرح نہیں تڑپا کرتا تھا۔ اور ہمیں اصل دشمنی اسی سے ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوداؤد طیالسی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے بھی ابوعوانہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4309]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4309 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه مقال من أجل أبي بَلْج - واسمه يحيى بن سُليم، ويقال: ابن أبي سُليم - كما سيأتي بيانه برقم (4702) حيث رواه من طريق يحيى بن حماد عن أبي عوانة - وهو الوضّاح بن عبد الله اليَشْكري - ضمن حديث طويل. عمرو بن ميمون: هو الأَوْدي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند میں "کلام" (مقال) ہے، جس کی وجہ "ابو بلج" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو بلج کا نام یحییٰ بن سلیم (یا ابن ابی سلیم) ہے، جیسا کہ آگے (رقم 4702) پر بیان ہوگا جہاں اسے یحییٰ بن حماد عن ابی عوانہ (جو کہ وضاح بن عبداللہ الیشکری ہیں) کے طریق سے ایک طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا گیا ہے۔ عمرو بن میمون سے مراد "الاودی" ہیں۔
وقد روي نحو هذه القصة من وجه آخر عن ابن عبّاس عند ابن إسحاق في "السيرة النبوية" كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 480 من طريق زياد بن عبد الله البكائي، وكما في "دلائل النبوة" لأبي نعيم (154) من طريق إبراهيم بن سعد، كلاهما عن محمد بن إسحاق، عمن لا يُتَّهم، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عبّاس. وإسناده ضعيف لجهالة شيخ ابن إسحاق، وابن أبي نجيح كان يدلس عن مجاهد.
🧩 متابعات و شواہد: اسی قصے کی مثل ایک اور سند سے ابن عباس سے بھی مروی ہے جو ابن اسحاق کی "السیرۃ" (دیکھیں: ابن ہشام 1/ 480) میں زیاد بن عبداللہ البکائی کے طریق سے، اور ابو نعیم کی "الدلائل" (154) میں ابراہیم بن سعد کے طریق سے ہے۔ یہ دونوں اسے محمد بن اسحاق عن "عمن لا یتہم" (جس پر تہمت نہیں، مبہم راوی) عن عبداللہ بن ابی نجیح عن مجاہد عن ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے؛ کیونکہ ابن اسحاق کے شیخ مجہول ہیں اور ابن ابی نجیح مجاہد سے تدلیس کیا کرتے تھے۔
ورواه بعضهم عن ابن إسحاق عن ابن أبي نجيح مباشرة، منهم سلمة بن الفضل الأبرش عند الطبري في "تاريخه" 2/ 370، وأبي نعيم في "الدلائل" (154)، ويحيى بن سعيد الأُموي عند الطبري في "تفسيره" 9/ 227، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1686 - 1687، وذكر سلمة في روايته سماع ابن إسحاق من ابن أبي نجيح!
🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض راویوں نے اسے ابن اسحاق عن ابن ابی نجیح (براہِ راست) روایت کیا ہے (درمیان سے مبہم راوی ہٹا دیا)۔ ان میں سلمہ بن الفضل الابرش (طبری 2/ 370، ابو نعیم 154) اور یحییٰ بن سعید الاموی (تفسیر طبری 9/ 227، تفسیر ابن ابی حاتم 5/ 1686-1687) شامل ہیں۔ سلمہ نے اپنی روایت میں ابن اسحاق کے ابن ابی نجیح سے سماع کی صراحت کی ہے!
وروي نحو هذه القصة أيضًا من وجه ثالث عن ابن عبّاس عند عبد الرزاق في "مصنفه" (9743)، وعنه أحمد 5/ (3251) وغيره، عن معمر، عن عثمان الجَزَري، عن مِقْسَم عن ابن عبّاس. وإسناده ضعيف. ويشهد لبعض هذه القصة أيضًا مرسل محمد بن كعب القُرَظي عند ابن إسحاق في "السيرة" كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 483، ومن طريقه الطبري في "التاريخ" 2/ 372. وفي إسناده يزيد بن زياد - وهو القرظي مولى بني هاشم - وهو مجهول الحال.
🧩 متابعات و شواہد: یہ قصہ ایک تیسرے طریق سے بھی ابن عباس سے مروی ہے جو عبدالرزاق (9743) اور احمد (5/ 3251) وغیرہ میں معمر عن عثمان الجزری عن مقسم عن ابن عباس کے واسطے سے ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🧩 شاہد: اس قصے کے کچھ حصے کی تائید محمد بن کعب القرظی کی "مرسل" روایت سے ہوتی ہے جو ابن اسحاق کی "السیرۃ" (ابن ہشام 1/ 483) اور طبری (2/ 372) میں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کی سند میں یزید بن زیاد (جو قرظی، مولیٰ بنی ہاشم ہے) موجود ہے اور وہ "مجہول الحال" ہے۔
قوله: يرمُون، أي: بالحجارة، كما نُصَّ عليه في الرواية الآتية برقم (4702).
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "یرمون" کا مطلب ہے: "وہ پتھر مارتے تھے"، جیسا کہ اگلی روایت (رقم 4702) میں اس کی صراحت ہے۔
وقوله: يتضوَّر، أي: يتلوَّى ويتقلَّب ظهرًا لبطن.
📝 نوٹ / توضیح: ان کے قول "یتضوّر" کا مطلب ہے: "وہ (درد سے) بل کھاتا تھا اور پیٹ اور پیٹھ کے بل لوٹتا تھا"۔