المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. ذكر معاشرة أهل الصفة
اہلِ صفہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معاشرت کا ذکر
حدیث نمبر: 4339
وقد حدثنا شيخ التصوُّف في عصره أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخُلْدي، حدثنا أبو محمد الجريري، قال: سمعت سهل بن عبد الله التستري يقول: لمّا بعثَ اللهُ ﷿ النبي ﷺ كان في الدنيا سبعة أصناف من الناس: الملوك والمُزارعون وأصحاب المواشي والتجارُ والصُّناع والأُجَراء والضُّعَفاء والفقراء، لم يؤمر أحدٌ منهم أن ينتقل ممّا هو فيه، ولكن أمرَهُم بالعِلْم واليقين والتَّقْوى والتوكل في جميع ما كانوا فيه، قال سهلٌ رحمة الله عليه وينبغي للعاقل أن يقول: ما ينبغي لي بعدَ عِلْمي بأني عبدُك أن أرجو أو أؤمِّل غيرك، ولا أتوهم عليك إذ خَلَقْتني وصيَّرتني عبدًا لك أن تَكِلَني إلى نفسي، أو تُولّي أُمُورِي غيرك. قال الحاكم: وقد وصف رسول الله ﷺ هذه الطائفة بما خَصَّهم الله تعالى به من بين الطوائف بصفاتٍ، فمن وجدت فيه تلك الصفات استحق بها اسم التصوُّف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سہل بن عبداللہ تستری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا: اس وقت زمانہ میں سات قسم کے لوگ موجود تھے۔ بادشاہ، کھیتوں میں کام کرنے والے، مزارع، جانور وغیرہ پالنے والے، تاجر، کاریگر، مزدور، ضعیف اور فقراء۔ آپ علیہ السلام نے ان میں سے کسی کو بھی اپنی موجودہ حقیقت بدلنے کا حکم نہیں دیا۔ البتہ ان سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوئے علم، یقین، تقویٰ اور توکل علی اللہ کا حکم دیا۔ تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک عقل مند آدمی کو یوں کہنا چاہئے ” جب میں یہ جانتا ہوں کہ میں صرف تیرا بندہ ہوں تو میرے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ تیرے سوا کسی اور سے امیدیں لگاؤں۔ اور جب تو نے میری تخلیق کی ہے اور مجھے اپنا بندہ بنایا ہے تو میرے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ میں تیرے بارے میں یہ وہم کروں کہ تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دے گا یا تو میرے معاملات اپنے سوا کسی اور کے سپرد کرے گا۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں میں اس جماعت کو جن اوصاف کے ساتھ خاص کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی وہ صفات بیان کر دی ہیں چنانچہ جس میں یہ صفات پائی جائیں گی، اس پر تصوف کا اطلاق کرنا درست ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4339]