🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. ذكر فداء أبى العاص أرسلت به زينب بنت رسول الله
حضرت زینبؓ کا اپنے شوہر ابو العاص کے فدیہ میں مال بھیجنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4352
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بَعَثَ أهل مكة في فداء أُساراهم، بَعَثَت زينب بنتُ رسول الله ﷺ في فداء أبي العاص بمالٍ، وبعثت فيه بقلادة كانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بنى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقّةً شديدة، وقال:"إن رأيتُم أن تُطلِقُوا لها أسيرها، وتَرُدُّوا عليها الذي لها". وكان رسول الله ﷺ قد أَخَذَ عليه ووَعَدَ رسول الله ﷺ أَن يُخْلِيَ زينبَ إليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4306 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالعاص کے فدیہ کے لئے جو مال بھیجا اس میں وہ ہار بھی تھا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان ابوالعاص کے ساتھ شادی کے موقع پر دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ پر بہت شدید رقت طاری ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا فدیہ بھی واپس بھیج دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا تھا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ کے پاس آنے دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4352]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4352 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار - وقد صرّح بسماعه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے حسن ہے، اور انہوں نے اپنے سماع کی صراحت کی ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26362)، وأبو داود (2692) من طريقين عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (43/ 26362) اور ابو داؤد (2692) نے محمد بن اسحاق کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيتكرر عند المصنف بالأرقام (5109) و (5496) و (7012).
📝 نوٹ / توضیح: اور یہ مصنف کے ہاں بار بار (رقم 5109، 5496 اور 7012) پر آئے گا۔