🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. ذكر مبارزة على رضى الله عنه عمرو بن عبد ود
حضرت علیؓ کا عمرو بن عبد ود سے مقابلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4373
حدثنا لُؤلؤ بن عبد الله المُقتَدِري، في قصر الخليفة ببغداد، حدثنا أبو الطيب أحمد بن إبراهيم بن عبد الوهاب المصري بدمشق، حدثنا أحمد بن عيسى الخَشّاب بتِنِّيس، حدثنا عمرو بن أبي سلمة، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَمُبارزةُ عليِّ بن أبي طالب لعمرو بن عبد وَدٍّ يوم الخندق أفضل من أعمال أمتي إلى يوم القيامة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4327 - قبح الله رافضيا افتراه
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنگ خندق کے دن سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد ود کو جنگ کیلئے پکارنا قیامت تک میری امت کے تمام اعمال سے افضل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4373]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4373 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالفٌ، وذلك من أجل أحمد بن عيسى الخشاب - وهو ابن زيد - فهو متروك وكذبه مسلمة وابن طاهر، وقد حكم الذهبي في "تلخيصه" على هذا الخبر بأنه مُفترى، فقال: قبَّح الله رافضيًا افتراه، وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 13/ 331: هذا خبر موضوع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (بالکل برباد/ تباہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "احمد بن عیسیٰ الخشاب" (جو کہ احمد بن عیسیٰ بن زید ہے) کا ہونا ہے، وہ "متروک" ہے، مسلمہ اور ابن طاهر نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حافظ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اس خبر پر حکم لگایا ہے کہ یہ "من گھڑت" (مفتریٰ) ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: "اللہ بُرا کرے اس رافضی کا جس نے اسے گھڑا ہے۔" حافظ ابن حجر ؒ نے "اتحاف المہرۃ" (13/ 331) میں فرمایا: "یہ خبر موضوع (من گھڑت) ہے۔"