المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
62. من أفتى الناس بغير علم كان إثمه على من أفتاه
جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دے، اس کا گناہ اسی پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا۔
حدیث نمبر: 442
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا همَّام، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا تَكتُبوا عني شيئًا سِوَى القرآن، ومَن كَتَبَ عني شيئًا سوى القرآن فليَمْحُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تقدّم (3) أخبار عبد الله بن عمرو في إجازة الكتابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 437 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تقدّم (3) أخبار عبد الله بن عمرو في إجازة الكتابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 437 - على شرطهما
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہو وہ اسے مٹا دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی احادیث میں کتابت کی اجازت کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 442]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی احادیث میں کتابت کی اجازت کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 442]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 442 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عباس الأسفاطي. أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وهمام: هو ابن يحيى العَوْدي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عباس الاسفاطی کی موجودگی کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔ سند میں مذکور "ابو الولید" سے مراد ہشام بن عبد الملک الطیالسی ہیں اور "ہمام" سے مراد ہمام بن یحییٰ العَوْدی (بصری ثقہ راوی) ہیں۔
وأخرجه أحمد 17/ (11085) و (11087) و (11158) و (11344) و 18/ (11536)، ومسلم (3004)، والنسائي (7954)، وابن حبان (64) من طرق عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند میں (17/ 11085، 11087، 11158، 11344 اور 18/ 11536)، امام مسلم (3004)، امام نسائی (7954) اور ابن حبان (64) نے ہمام بن یحییٰ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام حاکم رحمہ اللہ کا اس حدیث کو اپنی کتاب میں "مستدرک" (بطورِ اضافہ) لانا ان کا سہو (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے صحیح مسلم میں موجود ہے۔
وأخرج الترمذي (2665) عن سفيان بن وكيع عن سفيان بن عيينة، عن زيد بن أسلم، عن عطاء، عن أبي سعيد قال: استأذنا النبيَّ ﷺ في الكتابة فلم يأذن لنا. وسفيان بن وكيع فيه ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی (2665) نے سفیان بن وکیع کے طریق سے، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: "ہم نے نبی ﷺ سے (حدیثیں) لکھنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے ہمیں اجازت نہیں دی"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی سفیان بن وکیع میں ضعف پایا جاتا ہے۔
وأخرج أبو داود (3648) من طريق خالد الحذاء، عن أبي المتوكل الناجي، عن أبي سعيد قال: ما كنا نكتب غيرَ التشهد والقرآن وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابو داود (3648) نے خالد الحذاء کے طریق سے، انہوں نے ابو المتوکل الناجی سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ: "ہم تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس روایت کی سند صحیح ہے۔
(3) تقدمت برقم (362 - 364).
📌 اہم نکتہ: یہ بحث پہلے نمبر (362 - 364) کے تحت گزر چکی ہے۔