المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. كان وفاة أبى بكر من السم
حضرت ابو بکرؓ کی وفات زہر کے اثر سے ہوئی
حدیث نمبر: 4459
حدثني الأستاذ أبو الوليد، حدثنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني أبي، عن جدِّي، عن عُقيل، عن ابن شِهَاب: أَنَّ رجلًا أهدى يومًا لأبي بكر صَحْفةً من خَزِيرة، وعنده رجلٌ يقال له: الحارث بن كَلَدة، وعنده عِلمٌ، فلما أكلا منها قال ابن كَلَدة فيها سُمُّ سنةٍ، فوالذي نفسي بيده لم يمرَّ الحولُ حتى ماتا في يوم واحدٍ رأسَ السنة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4411 - وهو مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4411 - وهو مرسل
ابن شہاب فرماتے ہیں: ایک دن کسی آدمی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خزیرہ (آٹے اور چربی کا بنے ہوئے کھانے) کا ایک پیالہ ہدیہ دیا۔ اس وقت آپ کے پاس حارث بن کلدہ نامی ایک صاحب علم شخص موجود تھا۔ جب ان دونوں نے اس میں سے کھا لیا تو ابن کلدہ بولا: اس میں سم سنہ ہے (سم سنہ اس زہر کو کہتے ہیں جس کا اثر ایک سال کے اندر اندر ہو جاتا ہے) (ابن شہاب کہتے ہیں) اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا تھا کہ سال کے آخری ایام میں ایک ہی دن میں دونوں کا انتقال ہو گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4459]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4459 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات، لكنه مرسل. عُقيل: هو ابن خالد الأيلي، والليث: هو ابن سعد، وعبد الله: هو ابن عمر بن الخطاب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ ’’مرسل‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عقیل: یہ ابن خالد الایلی ہیں۔ لیث: یہ ابن سعد ہیں۔ عبداللہ: یہ ابن عمر بن خطاب ہیں۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 3/ 182، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 409، وابن الأثير في "أسد الغابة" 3/ 230 عن عبد العزيز بن عبد الله الأُويسي، وأبو نُعيم الأصبهاني في "الطب النبوي" (570) من طريق حجاج بن محمد المِصِّيصي، كلاهما عن الليث بن سعد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے ’’الطبقات الکبریٰ‘‘ 3/ 182 میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر (30/ 409) اور ابن اثیر (3/ 230) نے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی سے، اور ابو نعیم الاصبہانی نے ’’الطب النبوی‘‘ (570) میں حجاج بن محمد المصیصی کے طریق سے تخریج کیا۔ یہ دونوں (اویسی اور حجاج) لیث بن سعد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وهذا على إرساله هو أصحُّ ما روي في سبب وفاة أبي بكر الصديق ﵁.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت اپنے ارسال کے باوجود ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے سبب کے بارے میں مروی سب سے ’’صحیح‘‘ روایت ہے۔