🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. ذكر بعض شجاعة عمر - رضى الله عنه - وتسبيحات ملائكة السماء الدنيا والسماء الثانية .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بعض شجاعتوں کا بیان اور آسمانِ دنیا اور دوسرے آسمان کے فرشتوں کی تسبیحات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4552
حَدَّثَنَا أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز، ببغداد، حَدَّثَنَا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حَدَّثَنَا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حَدَّثَنَا عبد الملك بن قُدامة الجُمَحي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن أبيه، عن عبد الله بن عمر: أنَّ عمر بن الخطّاب جاء والصلاةُ قائمةٌ، ونفرٌ ثلاثةٌ جلوسٌ، أحدُهم أبو جَحْش اللَّيثي، قال: قومُوا فصلُّوا مع رسول الله ﷺ، فقام اثنان وأبى أبو جَحْش أن يقوم، فقال له عمر: صلِّ يا أبا جحش مع النَّبِيّ ﷺ، قال: لا أقومُ حتَّى يأتيَني رجلٌ هو أقوى مني ذراعَين (1) ، وأشدُّ مني بَطْشًا فيصرعَني، ثم يَدُسَّ وجهيَ في التراب، قال عمر: فقمتُ إليه، فكنتُ أشدَّ منه ذراعًا، وأقوى بطشًا، فصرعتُه، ثم دَسَستُ وجهَه في التراب، فأتى عليَّ عثمانُ فحَجَزَني، فخرج عمر بن الخطاب مُغضَبًا حتَّى انتهى إلى النَّبِيّ ﷺ، فلما رآه النَّبِيُّ ﷺ ورأى الغضبَ في وجهه، قال:"ما رابَك يا أبا حفص؟" فقال: يا رسول الله، أتيتُ على نفرٍ جلوسٍ على باب المسجد، وقد أُقيمتِ الصلاةُ وفيهم أبو جَحْش اللَّيثي، فقام الرجلان، فأعاد الحديثَ، ثم قال عمر: والله يا رسول الله، ما كانت معونةُ عثمانَ إياه إلَّا أنه ضافَه ليلةً، فأحبَّ أن يَشكُرَها له، فسمعه عثمان فقال: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقول لنا عمرُ عندك؛ فقال رسول الله ﷺ:"إن رِضًا عمرَ، رحمةٌ واللهِ لودِدْتُ أنك كنتَ جئتَني برأس الخبيثِ" فقام عمر، فلما بعُدَ ناداه النَّبِيُّ ﷺ فقال:"هلُمَّ يا عمر؛ أين أردتَ أن تذهبَ؟" فقال: أردتُ أن آتيَك برأس الخَبيث، فقال:"اجلس حتَّى أُخبرَك بغِنَى الربِّ عن صلاة أبي جَحْش اللَّيثي: إنَّ الله في سمائه الدُّنيا ملائكةً خشوعًا لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامتِ الساعةُ رفعوا رؤوسهم قالوا: ربَّنا ما عَبدْناك حقَّ عبادتِك، وإنَّ لله في سمائه الثانية ملائكةً سجُودًا، لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامت الساعةُ رفعوا رؤوسهم، ثم قالوا ربَّنا ما عَبدْناك حقَّ عبادتك" [وإنَّ الله في سمائه الثالثة ملائكة رُكُوعًا لا يرفعون رؤوسهم حتَّى تقوم الساعةُ، فإذا قامتِ الساعةُ رفعوا رؤوسهم وقالوا: ما عَبدْناك حقَّ عبادتك"] (2) ، فقال له عمر بن الخطاب: وما يقولون يا رسول الله؟ قال:"أما أهلُ السماء الدُّنيا فيقولون: سبحانَ ذي المُلك والمَلَكُوتِ، وأما أهلُ السماء الثانية فيقولون: سبحانَ ذي العِزِّ والجَبَروت، وأما أهلُ السماء الثالثة فيقولون: سبحانَ الحيّ الذي لا يموت، فقُلها يا عمرُ في صلاتك" قال: يا رسول الله، فكيف بالذي علَّمتَني وأمرتَني أن أقولَه في صلاتي؛ قال:"قل هذه مرةً وهذه مرةً"؛ وكان الذي أمرَهُ به أن قال:"أعوذُ بعَفوِك من عِقابِكَ، وأعوذُ برِضاك من سَخَطِك، وأعوذُ بك منك، جَلَّ وجهُك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4502 - منكر غريب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے، اس وقت نماز (کی جماعت) قائم تھی اور تین آدمی (الگ) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک ابوجحش الیثی تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو، ان میں سے دو آدمی اٹھ کر نماز میں شامل ہو گئے جبکہ تیسرے ابوجحش نے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوجحش! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھو، اس نے کہا: میں نہیں اٹھوں گا حتی کہ میرے پاس وہ شخص آئے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اور جس کی پکڑ مجھ سے زیادہ سخت ہو، پھر وہ مجھے پچھاڑے، پھر میرا چہرہ مٹی میں خاک آلود کر دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کے قریب آیا، میں اس سے زیادہ طاقتور بھی تھا اور میری پکڑ بھی اس سے زیادہ سخت تھی۔ میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا۔ اتنے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے جھڑکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے سخت غصہ کی حالت میں نکل گئے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آ پہنچے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوحفص! تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے مسجد کے دروازے پر تین آدمیوں کو بیٹھے دیکھا، اس وقت جماعت ہو رہی تھی۔ ابوجحش اللیثی میں ان میں تھے۔ ان میں سے دو تو اٹھ گئے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا۔ اس کے بعد آپ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی حمایت صرف اس لئے کی ہے کہ اس نے ایک رات اس کی مہمان نوازی کی تھی اور عثمان رضی اللہ عنہ اس کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ بات سن رہے تھے۔ آپ بولے: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ نے وہ باتیں نہیں سنی ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں آپ سے کہی ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی رحمت پر راضی ہو تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تو خبیث کو میرے پاس لے آتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے، جب یہ کچھ دور چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آواز دے کر کہا: عمر رضی اللہ عنہ، ادھر آؤ، کہاں جا رہے ہو؟ عرض کی: خبیث کا سر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے جا رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو ابوجحش کی نماز کی ضرورت نہیں ہے۔ بے شک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر وقت عاجزی سے سر جھکائے رکھتے ہیں اور یہ قیامت تک سر نہیں اٹھائیں گے۔ جب قیامت قائم ہو جائے گی تو یہ سر اٹھا کر عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا پڑھتے ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: آسمان دنیا والوں کا وظیفہ یہ ہے۔ سبحان اللہ ذی الملك والملکوت اور دوسرے آسمان والوں کا یہ ہے سبحان الحی الذی لایموت اے عمر رضی اللہ عنہ! اپنی نماز میں ان وظائف کو شامل کر لو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کو نماز میں کس طریقے سے پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں ایک ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو، اور یہ دعا مانگنے کا بھی حکم دیا اے اللہ! میں تیرے عذاب سے تیرے عفو کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری بزرگی کی پناہ مانگتا ہوں ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4552]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4552 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف ومتنه منكر، عبد الملك بن قدامة الجُمحي قال جماعة من أهل العلم: له عن ابن دينار مناكير، وقال الذهبي في "تلخيصه": منكر غريب، وما هو على شرط البخاري، عبد الملك ضعيف تفرَّد به. قلنا: والراوي عنه - وهو إسحاق بن محمد الفروي - فيه ضعفٌ أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور متن منکر ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الملک بن قدامہ الجمحی کے بارے میں اہل علم کی ایک جماعت نے کہا: ابن دینار سے اس کی روایات منکر ہیں۔ حافظ ذہبی نے ”تلخیص المستدرک“ میں فرمایا: یہ منکر اور غریب ہے اور بخاری کی شرط پر نہیں ہے، عبد الملک ضعیف ہے اور وہ اس میں منفرد ہے۔ ہم کہتے ہیں: اس سے روایت کرنے والا راوی اسحاق بن محمد الفروی بھی کمزور ہے۔
وأخرجه محمد بن نصر المَروَزي في "تعظيم قدر الصلاة" (256) عن محمد بن يحيى الذُّهْلي، وأبو الشيخ الأصبهاني في "العظمة" (534)، ومن طريقه أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (6732) وابنُ الأثير في "أسد الغابة" 5/ 47 - 48 من طريق علي بن الحسن الهِسنجاني، كلاهما عن إسحاق بن محمد الفَرْوِي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن نصر المروزی نے ”تعظیم قدر الصلاۃ“ (رقم: 256) میں محمد بن یحییٰ الذہلی سے، اور ابو الشیخ اصبہانی نے ”العظمۃ“ (رقم: 534) میں، اور ان کے طریق سے ابو نعیم نے ”معرفۃ الصحابہ“ (رقم: 6732) اور ابن اثیر نے ”اسد الغابۃ“ (5/ 47-48) میں علی بن الحسن الہسنجانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں اسحاق بن محمد الفروی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔