المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. استئذان عمر من عائشة لدفنه فى حجرتها .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنے حجرے میں دفن کی اجازت طلب کرنا
حدیث نمبر: 4569
حَدَّثَنَا أبو سعيد الثقفي وأبو بكر بن بالَوَيهِ، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي المَعْمَري، حَدَّثَنَا الوليد بن شُجاع، حَدَّثَنَا محمد بن بشر، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، قال: حدَّثَ أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب وأشياخُنا: أنَّ عمر بن الخطاب لمَّا طُعن قال لعبد الله: اذهبْ إلى عائشة فاقرَأ عليها مني السلامَ، وقل: إِنَّ عُمر يقول لكِ: إن كان لا يَضُرُّكِ ولا يُضيِّقُ عليكِ، فإني أحِبُّ أن أُدفَن مع صاحبيَّ، وإن كان ذلك يَضُرّكِ أو يُضيِّقُ عليك، فَلَعَمْري لقد دُفن في هذا البَقيع من أصحاب رسول الله ﷺ وأمهات المؤمنين من هو خَيرٌ من عُمر، فجاءها الرسول، فقالت: إِنَّ ذلك لا يَضُرُّني ولا يُضيَّق عليّ، قال: فادفِنُوني معهما (1) .
محمد بن عمرہ کہتے ہیں: ابوسلمہ اور یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب اور ہمارے دیگر اساتذہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو آپ نے (اپنے صاحبزادے) عبداللہ سے فرمایا: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر میرا سلام عرض کرو اور کہو: عمر کی درخواست ہے کہ اگر آپ کو برا نہ لگے اور آپ کو تکلیف نہ ہو تو میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ہمراہ دفن ہونا چاہتا ہوں اور اگر آپ کو تکلیف ہو یا آپ کو برا لگے تو خدا کی قسم! اس بقیع پاک میں ایسے ایسے اصحاب رسول و امہات المومنین مدفون ہیں جو عمر سے بدر جہا بہترتھے (تو کوئی بات نہیں میں بھی وہیں مدفون ہو جاؤں گا) سیدنا عبداللہ ام المومنین کے پاس آئے، تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ مجھے کوئی نقصان ہے اور نہ مجھے برا لگے گا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے مجھے ان دونوں (حضرات) کے ساتھ دفن کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4569]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4569 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكنه مرسل، فإنَّ أبا سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب لم يُدركا هذه القصة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے اور اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ مرسل ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب نے یہ قصہ (زمانے کے اعتبار سے) نہیں پایا۔
وقد روي هذا الخبر من طريقين آخرين صحيحين:
🧾 تفصیلِ روایت: یہ خبر دو دیگر صحیح طریقوں سے بھی مروی ہے:
فقد أخرجه بنحوه البخاري (1392) و (3700) من طريق عمرو بن ميمون الأوديّ قال: رأيت عمر بن الخطاب قال: يا عبد الله بن عمر، اذهب إلى أم المؤمنين عائشة فقل … فذكره بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1392، 3700) نے عمرو بن میمون الاودی کے طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے عمر بن خطاب کو دیکھا، انہوں نے کہا: اے عبد اللہ بن عمر! ام المومنین عائشہ کے پاس جاؤ اور کہو... پھر اسے اسی طرح ذکر کیا۔
وأخرجه البخاري أيضًا (7328) من طريق عروة: أنَّ عمر أرسل إلى عائشة، فذكره بنحوه مختصرًا. قال الحافظ في "الفتح" 24/ 124: هذا صورته الإرسال، لأنَّ عروة لم يدرك زمن إرسال عمر إلى عائشة، لكنه محمول على أنه حمله عن عائشة فيكون موصولًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (7328) عروہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے کہ: عمر نے عائشہ کی طرف پیغام بھیجا... پھر اسے مختصراً ذکر کیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے ”فتح الباری“ (24/ 124) میں فرمایا: اس کی صورت ”ارسال“ کی ہے، کیونکہ عروہ نے عمر کے عائشہ کو پیغام بھیجنے کا زمانہ نہیں پایا، لیکن یہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے اسے حضرت عائشہ سے حاصل کیا ہوگا، لہٰذا یہ موصول ہے۔