🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. الأشعار فى رثاء عمر - رضى الله عنه - .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات پر کہے گئے مرثیہ اشعار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنَا أبو سهل بن زياد، حَدَّثَنَا أبو قِلابة، حَدَّثَنَا أشهَلُ بن حاتم، حَدَّثَنَا ابن عَون، عن الشَّعْبي قال: ورَثَت عاتِكةُ بنت زيد بن عمرو بن نُفَيل عُمرَ فقالت: عينُ (2) جُودِي بعَبرةٍ ونَحيبِ … لا تَمَلِّي على الإمام الصَّليبِ فَجَّعَتْني المَنُونُ بالفارسِ المُعْ … لم يومَ الهِيَاجِ والتأْييبِ عِصْمةُ الدِّين والمُعِينُ على الدَّه … رِ وغيثُ المَلهُوفِ والمَكرُوبِ قل لأهل الضَّرَّاءِ والبُؤسِ: مُوتُوا … إِذ سَقَتْه المَنُونُ كأسَ شَعُوبِ وقالت عاتكة أيضًا: فَجَّعَني (3) فَيرُوزُ لا دَرَّ دَرُّهُ … بأبيضَ تالٍ للكتابٍ مُنيبِ رؤوفٍ على الأدنى غَليظٍ على العِدَى … أخي ثقةٍ في النائبات نَجيبِ متى ما يقُلْ لا يُكذِبِ القولَ فعلُهُ … سريعٍ إلى الخَيرات غيرِ قَطُوبِ (4) حديث الشُّورى مُخرَّج في"الصحيحين"، لكني قد أوردتُ هاهنا أحرفًا صحيحةً الإسنادِ مُفيدةً غريبةً.
سیدنا عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا ہے: اے آنکھ! عبرت اور سختی کے ساتھ رو اور برگزیدہ امام پر رونے میں دیر نہ کر۔ مجھے اس شہسوار کی موت نے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جو لڑائی اور جنگ کے موقعہ پر دوسروں کو تعلیم دیتا ہے۔ وہ دین کی عصمت ہے اور زمانے کا مددگار ہے اور غمزدوں اور پریشان حالوں کا مددگار ہے۔ مصیبت زدوں اور غم کے ماروں سے کہہ دو کہ مر جاؤ، کیونکہ موت نے ہمیں پریشانی کے جام پلائے ہیں۔ اور عاتکہ نے یہ بھی کہا ہے: مجھے فیروز نے پریشان کر دیا ہے۔ یہ غریب پر مہربان ہے اور مالداروں پر سخت ہے، ثقہ بھائی ہے اور مصیبت زدوں کی فریاد کو پہنچنے والا ہے۔ یہ جب کوئی بات کہہ دیتا ہے تو اس کا عمل اس کے قول کی تکذیب نہیں کرتا، یہ ماتھے پر شکن ڈالے بغیر نیکیوں کی طرف جلدی کرنے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4575]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4575 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في أصولنا الخطية: عَيْنيْ، بإضافة العين إلى ياء المتكلم، والمثبت من "تلخيص المستدرك" للذهبي، وبه يستقيم الوزن.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں لفظ ”عیني“ (آنکھ کی یاء متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ) ہے، لیکن جو ہم نے ذہبی کی ”تلخیص المستدرک“ سے ثابت کیا ہے (یعنی عینی) اسی سے شعر کا وزن درست ہوتا ہے۔
(3) حصل في الجزء الأول من أجزاء هذا البيت تغيير، وذلك أنه من البحر الطويل، وأول أجزائه يكون في الأصل على وزن "فعولن" فحذف منه الفاء والنون، فصار الوزن "عُول"، وحذف الفاء يُسمَّى في علم العروض الثَّلْمَ، وحذف النون يُسمَّى القبضَ، وقد اجتمعا في هذا البيت، وذلك شائع في الشعر العربي. انظر "العروض" لابن جِنِّي ص 62.
📝 نوٹ / توضیح: اس شعر کے پہلے رکن (جزء) میں تبدیلی واقع ہوئی ہے، کیونکہ یہ ”بحر طویل“ سے ہے اور اس کا پہلا رکن اصل میں ”فعولن“ کے وزن پر ہوتا ہے۔ اس میں سے ”ف“ اور ”ن“ کو حذف کر دیا گیا تو وزن ”عُول“ رہ گیا۔ (علم عروض میں) ”ف“ کے حذف کو ”ثلم“ اور ”ن“ کے حذف کو ”قبض“ کہتے ہیں۔ اس شعر میں یہ دونوں جمع ہو گئے ہیں اور عربی شاعری میں یہ عام ہے۔ ملاحظہ کریں ابن جنی کی کتاب ”العروض“ (صفحہ: 62)۔
(4) رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، فإنَّ الشَّعْبي - وهو عامر بن شَراحيل - لم يدرك زمن وفاة عمر بن الخطاب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ مرسل ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ شعبی (عامر بن شراحیل) نے عمر بن خطاب کی وفات کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 4/ 218 - 219 من طريق صالح بن كيسان عن المغيرة بن شعبة. وهو منقطعٌ على ضعف في الإسناد إلى صالح بن كيسان. وأخرج الأبيات الأُولى الخرائطي في "اعتلال القلوب" (439)، وأبو الفرج الأصفهاني في "الأغاني" 18/ 64 - 66 من طرق متعددة، ولكنها جميعها إما مرسلة وإما مُعضلة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی ”تاریخ“ (4/ 218-219) میں صالح بن کیسان سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے، اور یہ صالح بن کیسان تک سند میں ضعف ہونے کے ساتھ ساتھ منقطع بھی ہے۔ ابتدائی اشعار خرائطی نے ”اعتلال القلوب“ (رقم: 439) اور ابو الفرج اصفہانی نے ”الاغانی“ (18/ 64-66) میں متعدد طرق سے نکالے ہیں، لیکن وہ سب یا تو مرسل ہیں یا معضل۔