المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. فضائل أمير المؤمنين ذي النورين عثمان بن عفان - رضي الله تعالى عنه -
امیر المؤمنین ذوالنورین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 4577
حَدَّثَنَا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصور أميرِ المؤمنين، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، حَدَّثَنَا هارون بن إسماعيل الخَزّاز، حَدَّثَنَا قُرَّة بن خالد، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: سمعتُ عليًا يومَ الجَمَل يقول: اللهم إني أبرأُ إليك من دمِ عُثمانَ، ولقد طاشَ عَقْلي يوم قُتل عثمانُ، وأنكرتُ نفسي وجاؤوني للبَيعة، فقلت: والله إني لأستحْيي من الله أن أُبايعَ قومًا قَتَلوا رجلًا قال له رسول الله ﷺ:"ألا أستَحْيي ممن تَستَحْيِي منه الملائكةُ"، وإني لأستحْيي من الله أن أُبايع وعثمانُ قَتيلُ الأرض لم يُدفَن بعدُ، فانصرفُوا، فلما دُفن رجعَ الناسُ فسألوني البيعةَ، فقلت: اللهم إني مُشفِقٌ مما أُقدِمُ عليه، ثم جاءت عَزيمةٌ فبايعتُ، فلقد قالوا: يا أميرَ المؤمنين، فكأنما صُدِعَ قلبي، وقلتُ: اللهم خُذْ مني لعثمانَ حتَّى تَرضَي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4527 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ” اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جس دن سیدنا عثمان کو شہید کیا گیا، اس دن میری عقل کھو گئی تھی اور یہ عمل مجھے انتہائی ناگوار گزرا تھا، لوگ میرے پاس بیعت کے لئے آئے تھے لیکن میں نے یہ کہہ کر بیعت لینے سے انکار کر دیا ” خدا کی قسم! مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی قوم سے بیعت لینے سے حیاء آتی ہے جنہوں نے ایسے آدمی کو شہید کر ڈالا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ اور میں ایسے حالات میں بھی بیعت لینے سے اللہ سے حیاء کرتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور ابھی ان کی تدفین بھی نہیں ہوئی ہے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین ہو چکی تو لوگ دوبارہ میرے پاس آئے اور بیعت لینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق جو اقدام کیا گیا ہے، میں اس سلسلہ میں بہت ڈر رہا ہوں لیکن پھر عزیمت آ گئی تو میں نے ان سے بیعت لے لی۔ لوگوں نے مجھے ” یا امیرالمومنین “ کہہ کر مخاطب کیا تو لگتا تھا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ اور میں نے کہا: اے اللہ! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھ سے مؤاخذہ کر لے حتی کہ تو راضی ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4577]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4577 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن أحمد بن يزيد الرياحيّ - وهو ابن أبي العوّام التميمي - فهو صدوق حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن احمد بن یزید الریاحی (ابن ابی العوام التمیمی) کی وجہ سے حسن ہے، کیونکہ وہ ”صدوق حسن الحدیث“ ہیں۔
وسيأتي برقم (4606) من طريق محمد بن يونس الكُديمي عن هارون بن إسماعيل الخزاز.
📝 نوٹ / توضیح: اور یہ روایت آگے نمبر (4606) پر محمد بن یونس الکدیمی عن ہارون بن اسماعیل الخزاز کے طریق سے آئے گی۔
قال ابن كثير في "البداية والنهاية" 10/ 334: ثبت عن علي أنه تبرأ من دم عثمان وكان يُقسم على ذلك في خُطبه وغيرها أنه لم يقتله ولا أمر بقتله، ولا مالأ ولا رضي به، ولقد نهى عنه فلم يسمعوا منه، ثبت ذلك عنه من طُرُق تفيد القطع عند كثير من أئمة الحديث، ولله الحمد والمنة.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن کثیر نے ”البدایۃ والنہایۃ“ (10/ 334) میں فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان کے خون سے برأت کا اظہار کیا، اور وہ اپنے خطبوں وغیرہ میں اس بات پر قسم اٹھاتے تھے کہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا، نہ قتل کا حکم دیا، نہ مدد کی اور نہ ہی اس پر راضی ہوئے، بلکہ انہوں نے تو اس سے منع کیا تھا مگر باغیوں نے ان کی بات نہ سنی۔ یہ بات ان سے ایسے متعدد طریقوں سے ثابت ہے جو ائمہ حدیث کے نزدیک قطعیت کا فائدہ دیتے ہیں۔ وللہ الحمد والمنۃ۔