المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. ذكر إسلام أبى ذر - رضى الله عنه - .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان
حدیث نمبر: 4637
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يوسف بن صهيب، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: انطلق أبو ذرِّ ونُعيمٌ ابن عم أبي ذر وأنا معهم نطلُبُ رسول الله ﷺ، وهو بالجبل مُكتَتِم، فقال أبو ذر: يا محمد، أتيناك نسمعُ ما تقول وإلى ما تدعو، فقال رسولُ الله ﷺ:"أقولُ: لا إله إلَّا الله، وإني رسولُ الله"، فآمنَ به أبو ذرٍّ وصاحبُه وآمنتُ به، وكان عليٌّ في حاجةٍ لرسول الله ﷺ أرسلَه فيها، وأُوحيَ إلى رسولِ الله ﷺ يومَ الاثنين وصلَّى عليٌّ يوم الثلاثاء (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4586 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4586 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ” سیدنا ابوذر اور ان کا چچا زاد بھائی نعیم اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پہاڑ میں چھپے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوذر نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ ہم سن سکیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور کس چیز کی طرف بلاتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں ” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں “ تو ہم تینوں آپ پر ایمان لے آئے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کام کیلئے گئے ہوئے تھے، آپ نے ان کو کہیں بھیجا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیر کے دن وحی نازل ہوئی اور منگل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4637]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4637 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر منكر، وهذا إسناد قد اختُلف في وصله وإرساله، فقد جاء هذا الخبر في الجزء المطبوع من "سيرة ابن إسحاق" برواية أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي - عن يونس بن بكير، عن ابن إسحاق برقم (180) مرسلًا، ليس فيه ذكر بريدة، وإنما يَحكي فيه عبد الله بن بريدة قصة أبيه مع أبي ذر وابن عمه بصيغة الغائب، وليس فيه كلام لبريدة بصيغة المتكلم كما وقع في رواية المصنف هنا، بما يدل على أنَّ الرواية التي في جزء "السيرة" ذاك مرسلة، ويؤيد ذلك أنه وقع الخبر مختصرًا مرة أخرى في ذلك الجزء بذكر الثلاثة الذين أسلموا بعد علي بن أبي طالب برقم (176) عن يوسف بن صهيب عن عبد الله بن بريدة، قال: أول الناس إسلامًا علي بن أبي طالب، ثم الرهط الثلاثة أبو ذر وبريدة وابن عم أبي ذر.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ خبر منکر ہے، اس کی سند میں وصل و ارسال کا اختلاف ہے۔ ”سیرت ابن اسحاق“ (مطبوعہ: 180) میں احمد بن عبد الجبار العطاردی عن یونس بن بکیر عن ابن اسحاق کی روایت مرسل ہے، اس میں بریدہ کا ذکر نہیں، بلکہ عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کا قصہ غائب کے صیغے میں بیان کر رہے ہیں، مصنف کی طرح متکلم کے صیغے میں نہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ سیرت والی روایت مرسل ہے۔ اسی جزو (176) میں یہ خبر مختصر بھی ہے: ”سب سے پہلے اسلام لانے والے علی، پھر تین افراد: ابو ذر، بریدہ اور ابو ذر کے چچا زاد۔“
وفيه اختلاف آخر في متنه أيضًا، وهو أنَّ الزيادة التي هنا في آخر الخبر وهي قوله: وأُوحي إلى رسول الله ﷺ يوم الاثنين، وصلى عليٌّ يوم الثلاثاء، لم ترد في جزء "السيرة" الذي بأيدينا، مع أنه من رواية أحمد بن عبد الجبار العُطاردي عن يونس بن بكير، فهذه الزيادة مدرجة في هذا الخبر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: متن میں دوسرا اختلاف یہ ہے کہ آخری زیادتی (وحی پیر کو آئی اور علی نے منگل کو نماز پڑھی) ”سیرت“ کے نسخے میں نہیں ہے، حالانکہ وہ بھی اسی راوی (احمد بن عبد الجبار عن یونس) سے ہے، لہٰذا یہ زیادتی مدرج ہے۔
وفي رواية يونس بن بكير هذه أيضًا اختلاف ونكارة، فقد روى علي بن غُراب عند ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (177)، والطبراني في "الكبير" 22/ (1102) عن يوسف بن صهيب عن عبد الله بن بريدة عن أبيه، أنه قال: خديجة أول من أسلم مع رسول الله ﷺ، وعلي بن أبي طالب. ففي هذه الرواية مخالفة لرواية يونس بن بكير، حيث ذكر فيها خديجة مقرونة بعليِّ بن أبي طالب بأنهما أول الناس إسلامًا، وليس فيه تعرُّض لذكر أبي ذر ولا صاحبيه المذكورَين، فهذه علة أخرى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یونس بن بکیر کی روایت میں نکارت ہے، کیونکہ علی بن غراب نے ابن ابی عاصم اور طبرانی کے ہاں یوسف بن صہیب عن عبد اللہ بن بریدہ عن ابیہ سے روایت کیا ہے کہ: ”خدیجہ اور علی سب سے پہلے اسلام لائے۔“ یہ یونس کی روایت کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں خدیجہ کا ذکر ہے اور ابو ذر وغیرہ کا ذکر نہیں، یہ ایک اور علت ہے۔
على أنه قد رُوي في إسلام بريدة روايةٌ أخرى عند الواقدي في "مغازيه" 2/ 782 أنَّ بريدة أسلم هو وجماعة من قومه لما كان رسول الله ﷺ في طريق الهجرة، وهو بغدير الأشطاط، وزاد الواقدي في رواية أخرى ذكرها ابن سعد في "طبقاته" 4/ 228 عنه عن هاشم بن عاصم الأسلمي عن أبيه، قال: لما هاجر رسول الله ﷺ من مكة إلى المدينة فانتهى إلى الغميم، أتاه بريدة بن الحصيب، فدعاه رسول الله ﷺ إلى الإسلام، فأسلم هو ومن معه وكانوا زهاء ثمانين بيتًا، فصلَّى بهم رسول الله ﷺ العشاء فصلوا خلفه.
🧾 تفصیلِ روایت: بریدہ کے اسلام کے بارے میں واقدی (2/ 782) کے ہاں دوسری روایت ہے کہ وہ ہجرت کے راستے میں ”غدیر اشطاط“ پر اسلام لائے۔ واقدی کی ایک اور روایت (ابن سعد: 4/ 228) میں ہے کہ جب نبی ﷺ ”غمیم“ پہنچے تو بریدہ آئے اور اسلام لائے، اور ان کے ساتھ 80 گھرانے بھی اسلام لائے۔
فكان إسلام بريدة إذًا على مقتضى رواية الواقدي لما كان رسول الله ﷺ في طريق هجرته، ويؤيده رواية أخرى لبريدة نفسه من طريق أوس بن عبد الله بن بريدة عن الحسين بن واقد وعن أخيه سهل بن عبد الله بن بريدة، كلاهما عن عبد الله بن بريدة عن أبيه: أنه التقى رسولَ الله ﷺ في سبعين راكبًا من أهل بيته من بني سهم لما توجَّه النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكانت قريش جعلت مئةً من الإبل فيمن يأخذُ نبيَّ الله ﷺ فيردُّه عليهم.
📌 اہم نکتہ: واقدی کی روایت کے مطابق بریدہ کا اسلام ہجرت کے راستے میں تھا۔ اس کی تائید خود بریدہ کی روایت (اوس بن عبد اللہ عن الحسین بن واقد...) سے ہوتی ہے کہ وہ 70 سواروں کے ساتھ نبی ﷺ سے ملے جب وہ مکہ سے مدینہ جا رہے تھے۔
فباجتماع هذه الروايات يتضح أن بريدة كان إسلامه إذ كان النبيُّ ﷺ في طريق هجرته من مكة إلى المدينة، وهذا ينافي كونه كان أحدَ الأربعة السابقين إلى الإسلام كما تفيده رواية يونس بن بكير، فهذه علة ثالثة في روايته.
📌 اہم نکتہ: ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ بریدہ ہجرت کے دوران اسلام لائے، جو اس بات کے منافی ہے کہ وہ پہلے چار مسلمانوں میں سے تھے (جیسا کہ یونس بن بکیر کی روایت میں ہے)، یہ تیسری علت ہے۔
وأما إسلام أبي ذرٍّ فقصته المشهورة في إسلامه التي أخرجها مسلم (2473) وغيره، تُنافي قصته التي رواها يونس بن بكير أيضًا، ففي رواية مسلم وغيره ما يشعر بأنَّ إسلامَ أبي ذرِّ كان قبل الهجرة، لقول النبي ﷺ ولأبي ذر: "إنه قد وُجِّهتْ لي أرضٌ ذاتُ نخل، لا أُراها إلّا يثرب، فهل أنت مبلغٌ عني قومك عسى الله أن ينفعهم بك ويأجرك فيهم"، وفيها أيضًا أنَّ أبا ذرٍّ أسلم هو وأخوه أُنيس وأمهما أيضًا، ففي ذلك دليل على أنَّ إسلام أبي ذرٍّ كان سابقًا لإسلام بريدة، وأنَّ أبا ذرٍّ إنما أسلم هو وأخوه وأمهما معًا، وليس هو وابن عمه وبريدة كما في رواية يونس بن بكير، وإذا كان إسلامهم قبيل الهجرة فلا يكون أبو ذرٍّ أحد الأربعة السابقين إلى الإسلام كما في حديث يونس بن بكير، لما هو معلومٌ من إسلام جماعةٍ من الصحابة قبل ذلك الحين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو ذر کے اسلام کا مشہور قصہ (مسلم: 2473) بھی یونس بن بکیر کی روایت کے منافی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ابو ذر ہجرت سے پہلے اسلام لائے تھے (نبی ﷺ کے فرمان سے اشارہ ملتا ہے)۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ابو ذر، ان کے بھائی انیس اور ان کی ماں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا، نہ کہ ابن چچا اور بریدہ کے ساتھ۔ اور اگر یہ ہجرت سے کچھ پہلے تھا تو ابو ذر پہلے چار میں شامل نہیں ہو سکتے، کیونکہ اس سے پہلے ایک جماعت اسلام لا چکی تھی۔
فحصل من ذلك تعارضُ ظاهرٌ بين رواية مسلم وغيره في قصة إسلام أبي ذر وبين رواية يونس
⚖️ درجۂ حدیث: اس سے مسلم کی روایت اور یونس کی روایت میں واضح تعارض پیدا ہوتا ہے۔
بن بكير في قصة إسلامه، فهذه أوجهٌ متعددة تظهر نكارة رواية يونس بن بكير وأنها مخالفة للمشهور
⚖️ درجۂ حدیث: یہ متعدد وجوہات یونس بن بکیر کی روایت کی نکارت کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ کہ وہ مشہور کے خلاف ہے۔
في إسلام بريدة، ومخالفة للصحيح أيضًا في إسلام أبي ذر.
⚖️ درجۂ حدیث: بریدہ کے اسلام کے بارے میں مشہور کے خلاف، اور ابو ذر کے اسلام کے بارے میں صحیح کے خلاف۔
وقوله في آخر الخير بأنه أُوحي إلى رسول الله ﷺ يوم الاثنين، وأن عليًا صلَّى يوم الثلاثاء، قد روي من غير حديث بريدة، فقد رُوي عن أنس بن مالك كما في الرواية التالية عند المصنف، لكنه ضعيف جدًّا واهٍ.
📝 نوٹ / توضیح: آخری حصہ (وحی پیر کو اور علی کی نماز منگل کو) بریدہ کے علاوہ انس بن مالک سے بھی مروی ہے (جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)، لیکن وہ سخت ضعیف اور واہی ہے۔
وروي أيضًا من حديث جابر بن عبد الله عند الطبري في "تاريخه" 2/ 310، وهو واهٍ أيضًا، ففي إسناده عبد الحميد بن بحر، قال عنه ابن حبان وابن عدي: كان يسرق الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اور جابر بن عبد اللہ سے طبری (2/ 310) کے ہاں مروی ہے، وہ بھی واہی ہے، اس کی سند میں عبد الحمید بن بحر ہے جو حدیث چوری کرتا تھا (ابن حبان و ابن عدی)۔
ورُوي كذلك من حديث أبي رافع مولى رسول الله ﷺ، كما سيأتي عند المصنف برقم (4901) وفي إسناده محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، وهو متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اور ابو رافع سے بھی مروی ہے (مصنف: 4901)، اس میں محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہے جو متروک ہے۔
وانظر ما سلف برقم (4633).
📝 نوٹ / توضیح: نمبر (4633) ملاحظہ کریں۔