🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. الوضوء من مس الذكر وتحقيق حديث بسرة
عضوِ خاص کو چھونے پر وضو کے وجوب اور حدیثِ سیدہ بُسرہ رضی اللہ عنہا کی تحقیق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، قال: سمعتُ عليَّ بن المَدِيني وذَكَرَ حديث شعيب بن إسحاق عن هشام بن عروة الذي يذكر فيه سماعَ عروةَ من بُسْرة، فقال علي: هذا مما يدلُّك أنَّ يحيى بن سعيد القطّان قد حَفِظَ عن هشام بن عُروة عن أبيه أنه قال: أخبرتني بُسْرةُ. قال عليٌّ: فحدثني أبو الأسود حُميد بن الأسود، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن مروان، عن بُسْرة بنت صفوان - وقد كانت صَحِبَت النبيَّ ﷺ أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا مسَّ أحدُكم ذكره، فلا يُصَلِّ حتى يتوضَّأَ"، فأنكر ذلك عروةُ، فسأل بُسْرةَ فصدَّقَته (2) ........ (3) حَزْم الأنصاري ومحمد بن مسلم الزهري وأبو الزِّناد عبد الله بن ذَكْوان القرشي ومحمد بن عبد الله بن عُروة وأبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نَوفَل القرشي وعبد الحميد بن جعفر الأنصاري والحسن بن مسلم بن يَنَّاق، وغيرُهم من التابعين وأتباعهم. فأما بُسْرة بنت صفوان، فإنها من سيِّدات قريش:
ہشام بن عروہ اپنے والد (عروہ) سے اور وہ مروان بن حکم کے واسطے سے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا (صحابیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وضو کیے بغیر نماز نہ پڑھے؛ عروہ نے پہلے اس کا انکار کیا (کیونکہ مروان پر اعتماد نہیں تھا)، پھر بسرہ سے خود پوچھا تو انہوں نے تصدیق فرما دی۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ علی بن مدینی نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ یحییٰ بن سعید القطان نے اسے ہشام بن عروہ سے پوری صحت کے ساتھ یاد رکھا ہے جس میں عروہ کا بسرہ سے براہِ راست سماع ثابت ہوتا ہے۔ بسرہ بنت صفوان قریش کی معزز خواتین میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 482]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 482 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل حميد بن الأسود.
⚖️ درجۂ حدیث: حمید بن اسود کی موجودگی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے۔
(3) هنا بياض في النسخ الخطية قدر سطر، ويغلب على ظننا أن يكون مكان هذا البياض هنا قوله: ومنهم عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم؛ وقد سلف تخريج طريقه عند الحديث (477).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تقریباً ایک سطر کی جگہ خالی ہے، اور ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ یہاں یہ عبارت ہونی چاہیے: "اور ان میں سے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم بھی ہیں"؛ یاد رہے کہ اس طریق کی تخریج پہلے حدیث نمبر (477) کے ذیل میں گزر چکی ہے۔