المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الوضوء من مس الذكر وتحقيق حديث بسرة
عضوِ خاص کو چھونے پر وضو کے وجوب اور حدیثِ سیدہ بُسرہ رضی اللہ عنہا کی تحقیق۔
حدیث نمبر: 484
[حدثني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن أحمد بن سليمان، حدثنا محمد بن أصبَغ بن الفَرَج] (3) حدثني أَبي [حدثنا عبد الرحمن بن القاسم] (1) حدثنا نافع بن أبي نُعَيم، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن مَسَّ فرجه فليتوضَّأْ" (2) .
هذا حديث صحيح، وشاهدُه الحديث المشهور عن يزيد بن عبد الملك عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة. وقد صحَّت الرواية عن عائشة بنت الصِّدِّيق ﵄ أنها قالت: إذا مسَّت المرأةُ فرجَها توضأَت.
هذا حديث صحيح، وشاهدُه الحديث المشهور عن يزيد بن عبد الملك عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة. وقد صحَّت الرواية عن عائشة بنت الصِّدِّيق ﵄ أنها قالت: إذا مسَّت المرأةُ فرجَها توضأَت.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا وہ وضو کرے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا شاہد سعید بن ابی سعید کی ابوہریرہ سے مروی مشہور حدیث ہے، اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ اگر عورت اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 484]
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا شاہد سعید بن ابی سعید کی ابوہریرہ سے مروی مشہور حدیث ہے، اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ اگر عورت اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 484]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 484 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) ما بين المعقوفين استدركناه من "الخلافيات" للبيهقي (519) حيث ساقه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه، ومن "إتحاف المهرة" لابن حجر (18425).
📖 حوالہ / مصدر: ان بریکٹس (معقوفین) کے درمیان والا متن ہم نے امام بیہقی کی "الخلافيات" (519) سے مکمل کیا ہے جہاں انہوں نے اسے امام حاکم کی سند اور متن سے نقل کیا ہے، نیز ابن حجر کی "إتحاف المهرة" (18425) سے بھی اس کی تائید لی گئی ہے۔
(1) استدركناه من "إتحاف المهرة"، ومن "البدر المنير" لابن الملقن 2/ 472.
📖 حوالہ / مصدر: اس متن کی تکمیل "إتحاف المهرة" اور ابن الملقن کی "البدر المنير" 2/ 472 سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده جيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند جید (بہتر) ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1118) من طريق أحمد بن سعيد الهمداني، عن أصبغ بن الفرَج، بهذا الإسناد - وقرن بنافعٍ يزيدَ بنَ عبد الملك: وهو النوفلي، ولفظه عنده: "إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه وليس بينهما سِتْر ولا حجاب فليتوضأ".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (1118) نے احمد بن سعید ہمدانی کے طریق سے، انہوں نے اصبغ بن الفرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے نافع کے ساتھ یزید بن عبدالملک (نوفلی) کو بھی ذکر کیا ہے، اور ان کے ہاں روایت کے الفاظ یہ ہیں: "جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے اپنی شرمگاہ تک پہنچے (چھوئے) اور ان کے درمیان کوئی اوٹ یا پردہ نہ ہو، تو اسے وضو کرنا چاہیے"۔
وأخرجه كذلك أحمد 14/ (8404) عن يحيى بن يزيد بن عبد الملك النوفلي، عن أبيه، عن سعيد المقبري، به. ويحيى وأبوه ضعيفان.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد 14/ (8404) نے یحییٰ بن یزید بن عبدالملک نوفلی عن ابیہ عن سعید مقبری کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں یحییٰ اور ان کے والد دونوں ضعیف راوی ہیں۔