🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
183. سيدات نساء أهل الجنة أربع
ان میں سے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزيٰ رضی اللہ عنہا ہیں — جنتی عورتوں کی سردار چار ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4911
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن فُضيل عن عُمارة بن القَعْقاع، عن أبي زُرْعة، قال: سمعت أبا هريرةَ يقولَ: أتى جبريلُ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، هذه خديجة قد أتتكَ ومعها إناءٌ فيه إدامٌ - أو طعامٌ أو شرابٌ - فإذا هي أتتكَ فاقرأ عليها السلامَ من ربِّها، وبَشِّرها ببيتٍ في الجنة من قَصَبٍ، لا صَخَبَ فيه ولا نَصَب (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة! فأما قولُه ﷺ:"بَشِّر خديجة" فقد اتفقا على حديث إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الله بن أبي أَوفَى مختصرًا (4) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہے، اس کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا پانی ہے۔ جب یہ آپ کے پاس آ جائے تو اس کو اس کے رب کا سلام کہنا اور ان کو جنت میں موتیوں کے ایسے محل کی خوشخبری دینا جس میں نہ شور و غوغا ہے نہ کوئی تکلیف۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم حدیث میں بشر خدیجہ کے الفاظ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل بن ابی خالد کی سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصراً بیان کئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4911]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4911 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. أبو زُرعة: هو ابن عمرو بن جَرِير بن عبد الله البجلي.
⚖️ درجۂ سند: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابوزرعہ سے مراد "ابن عمرو بن جریر بن عبداللہ البجلی" ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 12 / (7156). وزاد: السلام من ربّها ومنّي.
📖 تخریج / اضافہ: یہ "مسند احمد" (12/ 7156) میں ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے: "اس کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام۔"
وأخرجه البخاري (3820) و (7497)، ومسلم (2432)، والنسائي (8300)، وابن حبان (700) من طُرق عن محمد بن فضيل، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 تخریج / تنقید: اسے بخاری (3820، 7497)، مسلم (2432)، نسائی (8300) اور ابن حبان (700) نے محمد بن فضیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
(4) أخرجه البخاري (1792)، ومسلم (2433).
📖 تخریج: اسے بخاری (1792) اور مسلم (2433) نے روایت کیا ہے۔