🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
199. من قام إلى إمام جائر للحق فقتله فهو سيد الشهداء
جو شخص ظالم حکمران کے سامنے حق کے لیے کھڑا ہو اور اسی میں قتل کر دیا جائے وہ سید الشہداء ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4944
أخبرنا أبو العباس المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى أخبرنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر، قال: رجعَ رسولُ الله ﷺ يوم أُحُد، فسمع نساءَ بني عبد الأشْهَل يَبكِين على هَلْكاهُنَّ، فقال:"لكنَّ حمزةَ لا بَواكيَ له"، فجئن نِساءُ الأنصار فبَكَين على حمزة عنده، ورَقَد فاستيقَظ وهنَّ يَبكِين، فقال:"يا وَيلَهنَّ، إنهن لَهاهُنا حتى الآن؟! مُروهُنَّ فليرجِعْن، ولا يَبكِين على هالكٍ بعدَ اليوم (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد سے واپس لوٹے تو بنی عبدالاشہل کی عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے شہداء پر رو رہی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمزہ رضی اللہ عنہ کیلئے رونے والی تو کوئی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ انصار کی کچھ عورتیں آئیں اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو کر بھی اٹھ گئے لیکن یہ عورتیں مسلسل رو رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا ستیاناس ہو، یہ ابھی تک روئے جا رہی ہیں۔ ان کو کہو کہ یہ واپس چلی جائیں۔ اور آج کے بعد کسی فوت شدہ پر نہ روئیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4944]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4944 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو اللَّيثي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 9 / (4984) و (5563) و (5666)، وابن ماجه (1591) من طرق عن أسامة بن زيد الليثي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 9/ (4984)، (5563) اور (5666) میں، اور ابن ماجہ: (1591) میں اسامہ بن زید اللیثی سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔
وسيأتي برقم (4952) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة عن أسامة بن زيد الليثي.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت عنقریب نمبر (4952) کے تحت ابو اسامہ حماد بن اسامہ کے طریق سے، وہ اسامہ بن زید اللیثی سے روایت کریں گے، آئے گی۔
ولأسامة بن زيد الليثي فيه إسنادٌ آخر تقدَّم عند المصنف برقم (1423)، يروي الحديثَ ثمة عن الزهري عن أنس بن مالك. وجمع البزار (6345) و (6346) وأبو يعلى (3576) وغيرهما بين إسناديه هذين، فالظاهر أنَّ أسامة حفظهما، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسامہ بن زید اللیثی کے پاس اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے جو مصنف (حاکم) کے ہاں نمبر (1423) کے تحت گزر چکی ہے، وہاں وہ اسے زہری سے اور وہ انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: جبکہ مسند بزار: (6345) و (6346) اور مسند ابو یعلیٰ: (3576) وغیرہ نے اسامہ کی ان دونوں سندوں کو جمع کیا ہے، پس ظاہر یہی ہے کہ اسامہ کو یہ دونوں سندیں یاد تھیں، واللہ اعلم۔