المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
حدیث نمبر: 495
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أبي التَّيّاح، عن موسى بن سَلَمة، عن ابن عباس قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن ماء البحر، فقال:"ماءُ البحرِ طَهُورٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وشواهده كثيرة، ولم يُخرجاه، فأوَّلُ شواهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 490 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وشواهده كثيرة، ولم يُخرجاه، فأوَّلُ شواهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 490 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک (کرنے والا) ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے شواہد کثیر ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے شواہد کثیر ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 495]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 495 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو التياح: هو يزيد بن حميد الضُّبَعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو التیاح سے مراد یزید بن حمید الضبعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 4/ (2518) في آخر حديث طويل عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 4/ (2518) میں ایک طویل حدیث کے آخر میں عفان بن مسلم عن حماد بن سلمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔