المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
215. ذكر مناقب سعد بن معاذ بن النعمان بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشهل - ذكر شهادة سعد بن معاذ وحكمه فى بني قريظة
سیدنا سعد بن معاذ بن نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبد الاشہل رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ کی شہادت اور بنی قریظہ کے بارے میں آپ کا فیصلہ
حدیث نمبر: 4981
حَدَّثَنَا بذلك أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، عن شُيوخه (3) . ذكرُ مناقب سعد بن خَيْثمة (1) وكان من النُّقَباء.
محمد بن عمرو نے اپنے اساتذہ سے اس بارے میں بھی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4981]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4981 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) لم ينفرد محمد بن عُمر - وهو الواقدي - بذلك، فقد تابعه عليه ابن إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 2/ 126.
🧩 متابعات و شواہد: (3) محمد بن عمر الواقدی اس میں منفرد نہیں ہیں، ابن اسحاق نے ان کی متابعت کی ہے جیسا کہ "سیرت ابن ہشام": 2/ 126 میں ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 264 - 265.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مغازی الواقدی": 1/ 264-265 میں موجود ہے۔
وروي من حديث أبي قتادة الأنصاري عند أحمد 37 / (22553) وغيره ذكر استشهاد عمرو بن الجموح ومولاه يوم أُحُدٍ، بإسناد حسن كما قال الحافظ في "فتح الباري" 8/ 158.
🧩 متابعات و شواہد: عمرو بن الجموح اور ان کے مولا (غلام) کی احد کے دن شہادت کا ذکر ابو قتادہ انصاری کی حدیث سے مسند احمد: 37/ (22553) وغیرہ میں مروی ہے، جس کی سند "حسن" ہے جیسا کہ حافظ نے "فتح الباری": 8/ 158 میں کہا۔
(1) ترجمة سعد بن خيثمة تقدَّمت بعد مناقب عُمير بن أبي وقّاص بعد الخبر (4925)، وأورد المصنّف هناك ثاني الخبرين اللذَين هنا، غير أنه زاد في كل موضع زيادة ليست في الموضع الآخَر.
📝 نوٹ / توضیح: (1) سعد بن خیثمہ کا ترجمہ (حالات) عمیر بن ابی وقاص کے مناقب کے بعد خبر (4925) کے بعد گزر چکا۔ مصنف نے یہاں موجود دو خبروں میں سے دوسری وہاں ذکر کی تھی، البتہ ہر جگہ کچھ ایسا اضافہ ہے جو دوسری جگہ نہیں ہے۔