🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. البحر هو الطهور ماؤه الحل ميتته
سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کے مردہ جانور حلال ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 502
فحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا ابن أبي مريم، أخبرني يحيى بن أيوب، حدثني خالد بن يزيد، أنَّ يزيد بن محمد القرشي حدثه عن المغيرة بن أبي بُرْدة، عن أبي هريرة قال: أتى نفرٌ إلى رسول الله ﷺ فقالوا: إنا نصيد في البحر ومعنا من الماء [العَذْب، فربَّما تخوَّفْنا العطشَ، فهل يَصلُحُ أن نتوضأَ من البحر المالح؟] (2) فقال:"نعم، توضَّؤُوا منه". وأما...... (1) البخاريُّ يزيدَ بن محمد القرشي هذا في"التاريخ"، وأنه قد روى عنه الليث بن أبي بردة (2) . فمنهم سعيد بن المسيّب:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم سمندر میں شکار کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ میٹھا پانی ہوتا ہے، پس بسا اوقات ہمیں پیاس لگ جانے کا خوف ہوتا ہے، تو کیا سمندر کے نمکین پانی سے وضو کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم اس سے وضو کر لیا کرو۔ امام بخاری نے یزید بن محمد قرشی کا ذکر اپنی کتاب التاریخ میں کیا ہے اور ان سے لیث بن ابی بردہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 502]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 502 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين مكانه بياض في النسخ الخطية، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي ¤ ¤ 1/ 4 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹس کا درمیانی حصہ قلمی نسخوں میں خالی تھا، جسے بیہقی کی "السنن الکبریٰ" 1/ 4 سے مکمل کیا گیا ہے جہاں انہوں نے اسے امام حاکم کی سند اور متن سے روایت کیا ہے۔
(1) بياض في النسخ الخطية. ولعلَّ المصنف يريد هنا أن يقول: وأما يزيد بن محمد فقد ذكر البخاري .. إلخ.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں خالی جگہ ہے؛ بظاہر مصنف یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں: "جہاں تک یزید بن محمد کا تعلق ہے تو امام بخاری نے ذکر کیا ہے کہ..."۔
(2) هذه العبارة فيها خطأ، ولعلَّ الصواب فيها كما يؤخذ من "التاريخ" للبخاري 8/ 357: وأنه قد روى الليث عن يزيد بن أبي حبيب عنه، وروى هو عن المغيرة بن أبي بردة، وذكر له هذا الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس عبارت میں غلطی ہے، درست عبارت وہ معلوم ہوتی ہے جو امام بخاری کی "التاریخ" 8/ 357 سے ماخوذ ہے کہ: لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور انہوں نے ان (یزید بن محمد) سے روایت کی ہے، اور انہوں نے مغیرہ بن ابی بردہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔