🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
238. لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها
سیدنا ابو مرثد غنوی کناز بن حصین عدوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — قبروں پر نہ بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5035
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبَهاني، حَدَّثَنَا ابن رُستَهْ، حَدَّثَنَا سليمان بن داود، حَدَّثَنَا محمد بن عُمر، قال: مات أبو مَرثَدٍ الغَنَوِي كَنّاز بن الحُصَين حليفُ حمزةَ بن عبد المطّلب (2) بالمدينة في خلافة أبي بكر الصِّدّيق سنة اثنتَي عشرةَ (3) . وقال غيرُه: بل قُتل بأجنادِينَ (1) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے حلیف، ابومرثد غنوی کناز بن حصین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں فوت ہوئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارہویں سن ہجری میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جن کا انتقال ہوا، وہ مرثد ابن ابی مرثد ہیں۔ اور کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ (ملک شام کے ایک علاقے) اجنادین میں شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5035]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5035 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) زاد في نسخنا الخطية بعده: وكان مرتد مات وهي عبارة مقحمة، وإيرادها يدلُّ على أن الذي مات بالمدينة في خلافة أبي بكر هو مرثد لا أبوه، وهذا خطأ، لأنَّ الواقدي ذكر هذا في ترجمة أبي مرثد الغَنَوي نفسه، وكان يرى أنَّ ابنه مرثدًا إنما قُتل يوم الرجيع في عهد النَّبِيّ ﷺ كما في مقالتِه التي تقدَّمت عند المصنِّف، فالعبارة مُقحمة بلا شكٍّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں ایک زائد عبارت "وکان مرتد مات" (اور مرتد فوت ہوا) آ گئی ہے جو کہ غلطی سے شامل ہو گئی ہے۔ درست یہ ہے کہ مدینہ میں خلافتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں وفات پانے والے ابومرثد کناز بن حصین الغنوی خود تھے، نہ کہ ان کے بیٹے مرثد؛ کیونکہ مرثد تو عہدِ نبوی میں یومِ رجیع کو شہید ہو چکے تھے۔
(3) ورواه عن محمد بن عمر - وهو الواقدي - أيضًا كاتبُه محمد بن سعد في "طبقاته الكبرى" 3/ 47، وزاد فيه الواقديّ قوله: وهو يومئذٍ ابن ست وستين سنة. وقد وافق الواقديّ عليه مصعبُ بن عبد الله الزبيري وإبراهيمُ الحِزامي كما سيأتي عند المصنّف برقم (5036) و (5038). ابن رُسته: هو محمد بن عبد الله بن رُسْته الضّبي، وسليمان بن داود: هو الشاذكوني.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واقدی سے ان کے کاتب محمد بن سعد نے "طبقات" (3/47) میں روایت کیا اور یہ اضافہ کیا کہ ان کی عمر 66 سال تھی۔ اس پر مصعب زبیری اور ابراہیم الحزامی نے بھی اتفاق کیا ہے جیسا کہ آگے نمبر (5036، 5038) پر آئے گا۔ ابن رُستہ سے مراد محمد بن عبداللہ الضبی اور سلیمان بن داؤد سے مراد الشاذکونی ہیں۔
(1) قال ذلك ابن حبان في "مشاهير علماء الأمصار" و "الثقات".
📖 حوالہ / مصدر: امام ابن حبان نے یہ بات اپنی کتب "مشاہیر علماء الامصار" اور "الثقات" میں کہی ہے۔