🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
239. ذكر مناقب مرثد بن أبى مرثد الغنوي قتل مع عاصم بن عدي وكانوا ستة نفر رضي الله عنهم
سیدنا ابومرثد الغنوی کناز بن الحصین العدوی رضی اللہ عنہ کے فضائل بعض لوگوں نے ان کا نام کناز بن حصن بن یربوع بتایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے مابین عقد مواخات قائم فرمایا تھا (یعنی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب مہاجرین اور انصاری صحابہ کرام کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا گیا تو حضرت کناز بن حصین رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھائی بھائی بنایا) یہ جنگ بدر، جنگ احد اور خندق میں شریک ہوئے۔ اور مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا تھا جس کو رجیع کی جانب بھیجا تھا، وہ وہاں پر شہید ہو گئے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مَكِّي بن بُندار الزَّنْجاني ببغداد، حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن يحيى بن خالد بن عمرو بن يحيى بن حمزة الدِّمشقي، حدثني أحمد بن محمد بن يحيى ابن حمزة، حدثني أبي، عن أبيه: وبَلَغني عن أبي كَبْشة السَّلُولي، عن أبي مَرثَدٍ الغَنَوي: أنَّ النَّبِيّ ﷺ بعثه حارِسًا، حتَّى إذا كان في وجْهِ الصُّبح أقبل، فقال النَّبِيّ ﷺ:"هذا صاحبُكم قد أقبل يَقطَعُ عليكُم"، ثم أتى النَّبِيَّ ﷺ، فقال:"أنزلْتَ الليلةَ عن فَرسِك؟" قال: لا والله يا نبيَّ الله، إِلَّا قاضيَ حاجةٍ، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"لا تُبالِ أن لا تَعمَلَ بعد هذا". قال يحيى بن حمزة: فذكرتُ هذا الحديثَ لأبي عمرو الأوزاعي، فحدَثني الأوزاعيُّ أنَّ حسانَ بن عَطيّة كان يُحدَّث بذلك (1) . هذه فضيلةٌ سَنِيّةٌ لأبي مَرثدٍ الغَنَوي، تفرَّد به أولادُ يحيى بن حمزة الدمشقي عن آبائهم عن الأوزاعيّ، وكلُّهم ثقات! ذكرُ مناقب مَرْثَد بن أبي مَرَثَدٍ الغَنوي قُتِل مع عاصم بن عَدِيٍّ، وكانوا ستةَ نفرٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4977 - رواته ثقات
سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چوکیداری پر مقرر فرمایا۔ جب صبح ہوئی تو یہ بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے، انہیں دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارا ساتھی آ گیا ہے یہ تمہاری حفاظت پر مامور تھا، پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم رات کو اپنے گھوڑے سے اترے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صرف قضائے حاجت کی غرض کے علاوہ نیچے نہیں اترا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج کے بعد اگر تم کوئی بھی (نیک عمل) نہیں کرو گے تو تمہیں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭٭ یحیی بن حمزہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابوعمرو اوزاعی کو سنائی تو انہوں نے کہا: حسان بن عطیہ بھی یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔ یہ ابومرثد کی اضافی فضیلت ہے اور یہ حدیث بیان کرنے میں یحیی بن حمزہ دمشقی کی اولادیں اپنے آباء کے حوالے سے اوزاعی سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ تاہم یہ تمام ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5045]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5045 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة - وهو الدمشقي - وقد كان صاحب مناكير ويُلقَّن ما ليس من حديثه حين كبر، وقال ابن حبان في "الثقات" في ترجمة أبيه محمد بن يحيى بن حمزة: هو ثقة في نفسه، يُتَّقى من حديثه ما رواه عنه أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة وأخوه عبيد، فإنهما كانا يُدخلان عليه كلْ شيءٍ.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: احمد بن محمد بن یحییٰ الدمشقی ضعیف ہے، وہ منکر روایات بیان کرتا تھا اور بڑھاپے میں اسے تلقین کی جاتی تھی (یعنی دوسروں کی باتیں اپنی سند سے بیان کر دیتا تھا)۔ اس کے والد محمد بن یحییٰ ثقہ تھے لیکن ان کے بیٹوں احمد اور عبید کی وجہ سے ان کی روایات میں احتیاط لازم ہے کیونکہ وہ والد کی روایات میں غیر متعلقہ چیزیں داخل کر دیتے تھے۔
والراوي عنه هنا أبو الحسن محمد بن يحيى بن خالد بن عمرو بن يحيى بن حمزة لا يُدرى من هو، فلم يرد في غير هذا الإسناد، فهو مجهول العين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں ایک راوی ابوالحسن محمد بن یحییٰ بن خالد بن عمرو ہیں جن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں، وہ صرف اسی سند میں نظر آتے ہیں، لہذا وہ "مجہول العین" ہیں۔
والمحفوظ في هذا الحديث أنه من رواية أبي كَبْشة السَّلُولي عن سهل بن الحَنْظلية أنَّ صاحب هذه القصة إنما هو أنس - وقيل: أُنيس - بن أبي مرثد الغَنَوي كما تقدَّم ذلك بإسناد صحيح برقم (784) و (2464)، فليس هذا الحديثُ إذًا لأبي مرثدٍ الغَنَوي، وليس هو في فضل أبي مرثدٍ أيضًا، بل في فضل ابنه أنسٍ، والله الموفِّق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس حدیث میں "محفوظ" (صحیح ثابت) بات یہ ہے کہ یہ ابوکبشہ السلولی عن سہل بن الحنظلیہ کی روایت سے ہے، اور اس قصے کے اصل صاحب حضرت انس رضی اللہ عنہ (اور ایک قول کے مطابق اُنیس) بن ابی مرثد الغنوی ہیں، جیسا کہ یہ بات صحیح سند کے ساتھ پیچھے نمبر (784) اور (2464) پر گزر چکی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لہٰذا یہ حدیث ابومرثد الغنوی کی نہیں ہے اور نہ ہی ان کی فضیلت میں ہے، بلکہ یہ ان کے بیٹے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ہے۔ واللہ الموفق۔
(2) عنوان هذه الترجمة جاء في نسخنا الخطية مقدَّمًا إلى ما قبل الرواية (5037)، ومحلُّه اللائق به هنا، فهذا أوانُ شروع المصنّف بمناقب مرثد بن أبي مرثد.
📝 نوٹ / توضیح: اس ترجمۃ الباب (عنوان) کا محل قلمی نسخوں میں روایت نمبر (5037) سے پہلے آ گیا تھا، جبکہ اس کی اصل اور مناسب جگہ یہی ہے، کیونکہ یہاں سے مصنف (امام حاکم) حضرت مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ کے مناقب کا آغاز کر رہے ہیں۔