🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
269. ذكر رفاعة بن رافع الزرقي رضي الله عنه
سیدنا رِفاعہ بن رافع زرَقی رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5098
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العدل، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا أبو مَعْشَر، عن إبراهيم بن عُبيد بن رِفاعة ابن رافع بن مالك بن عَجْلان الأنصاري، عن أبيه، عن جده رفاعة بن مالك، قال: أقبلتُ يوم بدرٍ، ففقَدْنا رسولَ الله ﷺ، فنادتِ الرِّفاقُ بعضُها بعضًا: أفيكُم رسولُ الله؟ فَوَقَفُوا حتى جاءَ رسولُ الله ﷺ ومعه عليُّ بن أبي طالب، فقالوا: يا رسول الله، فَقدْناكَ، فقال:"إِنَّ أبا حَسنٍ وَجَدَ مَعْصًا في بطنه، فتخلّفتُ عليه" (1) . ذكرُ مناقب ثابت بن قيس بن الشَّمّاسِ الخَزْرجي الخَطيب ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5025 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا رافع بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہ آئے، تو ساتھیوں نے ایک دوسرے کو آواز دے کر پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان ہیں؟ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے، صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں آپ نظر نہیں آ رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوحسن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کے پیٹ میں درد تھا، اس لئے میں ان کے پاس تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5098]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5098 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي مَعْشَر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّنْدي، والراوي عنه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ابو معشر" کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ ابو معشر کا نام نجیح بن عبد الرحمن السندی ہے۔
وهو عاصم بن علي بن عاصم الواسطي - له مناكير.
🔍 جرح و تعدیل: اور ان (ابو معشر) سے روایت کرنے والے راوی عاصم بن علی بن عاصم الواسطی ہیں، جن کی روایات میں "مناکیر" (منکر روایات) پائی جاتی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (4548)، وأبو بكر الأنباري في "حديثه" (58)، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (385)، وفي "معرفة الصحابة" (2715)، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 2/ 372 من طرق عن عاصم بن علي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4548)، ابو بکر الانباری نے اپنی "حدیث" (58)، ابو نعیم نے "الطب النبوی" (385) اور "معرفۃ الصحابۃ" (2715) میں، اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (2/372) میں عاصم بن علی سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
تنبيه: هذا الحديث والذي قبله تقدما في نسخنا الخطية قبل ترجمة رفاعة بن رافع فصارا من ترجمة رافع بن مالك، وحقُّهما أنهما في هذا الموضع كما أثبتنا.
📝 تنبیہ / ترتیبِ کتب: یہ حدیث اور اس سے پہلے والی حدیث ہمارے قلمی نسخوں میں "رفاعہ بن رافع" کے ترجمہ (عنوان) سے پہلے آ گئی تھیں، جس کی وجہ سے یہ "رافع بن مالک" کے ترجمہ کا حصہ بن گئی تھیں۔ حالانکہ ان دونوں کا اصل مقام وہی ہے جہاں ہم نے انہیں اب (درست کر کے) درج کیا ہے۔