المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
275. ذكر مناقب أبى العاص بن الربيع ختن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
سیدنا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد) کے مناقب کا بیان — ان کے انجامِ خیر اور حسنِ اسلام کا ذکر
حدیث نمبر: 5107
كما حدّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بكر، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني عطاءٌ الخُراساني، قال: قدمتُ المدينةَ، فأتيتُ ابنةَ ثابت بن قيس بن شَمّاس، فذكرتْ قصةَ أبيها، قالت: لما أنزل الله على رسوله ﷺ: ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ الآية [الحجرات: 2] ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [لقمان:18] جلس أبي في بيته يبكي، ففَقَدَه رسول الله ﷺ، فسألَه عن أمرِه، فقال: إني امرُؤٌ جَهِير الصوتِ، وأخافُ أن يكون قد حَبِطَ عَمَلي، فقال:"بل تَعِيشُ حميدًا، وتموتُ شهيدًا، ويُدخِلُك اللهُ الجنةَ بسلَامٍ"، فلما كان يومُ اليمامة مع خالد بن الوليد استُشهد، فرآه رجلٌ من المسلمين في مَنامه، فقال: إني لما قُتِلتُ انتَزَع درعي رجلٌ من المسلمين، وخَبّأه في أقصى العسكر، وهو عنده، وقد أكَبَّ على الدِّرع بُرْمةً، وجعل على البُرمة رَحْلًا، فالتِ الأميرَ فأخبِره، وإياك أن تقولَ: هذا حُلُم، فتُضيِّعَه، وإذا أتيتَ المدينةَ فائْتِ فقل لخليفةِ رسولِ الله ﷺ: إن عليَّ من الدَّين كذا، وغُلامي فلانٌ من رَقِيقي عَتيقٌ، وإياك أن تقولَ: هذا حُلُم، فتُضيِّعَه. قال: فأتاهُ فأخبره الخَبَر، فوجدَ الأمرَ على ما أخبرَه، وأتى أبا بكر فأخبرَه، فأنفذَ وصيَّتَه، فلا نعلمُ أحدًا بعدما مات أُنفذ وصيّتُه غيرَ ثابت بن قيس بن الشَّمّاس (1) . ذكرُ مناقب أبي العاص بن الرَّبيع خَتَنِ (1) رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5036 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5036 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عطاء خراسانی بیان فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں آیا تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے پاس گیا، وہ اپنے والد کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہنے لگی: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی لَا تَرْفَعُوا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتَ النَّبِیّ (الحجرات: 2) ” اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے “۔ (ترجمہ: کنزالایمان، امام احمد رضا) اور یہ آیت نازل ہوئی وَاللہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ (الحدید: 23) ” اور اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اترونا بڑائی مارتا “۔ تو میرے والد محترم گھر میں بیٹھ کر رونے لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کمی کو محسوس فرمایا، اور ان کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا: میری آواز تو بہت بلند بانگ شخص ہوں، اور میں اپنے اعمال کے برباد ہونے سے ڈرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے اعمال ضائع نہیں ہوں گے) بلکہ تم تو قابل ستائش زندگی گزارو گے۔ اور تمہیں شہادت کی موت نصیب ہو گی، اور اللہ تعالیٰ تمہیں سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے گا۔ چنانچہ آپ جنگ یمامہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ (ان کی شہادت کے بعد) ایک آدمی نے ان کو خواب میں دیکھا، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو کہا: جب میں شہید ہوا تو ایک مسلمان آدمی نے میری زرہ چوری کر لی تھی اور اس کو لشکر کے آخر میں جا کر چھپا دیا تھا وہ زرہ ابھی بھی اسی کے پاس ہے۔ اس نے اس کے اوپر پتھر کی ہانڈی رکھی ہوئی ہے، اور اس کے اوپر کجاوہ رکھا ہوا ہے، تو امیر صاحب کے پاس جا کر یہ بات بتاؤ، اور اس کو یہ نہ کہنا کہ میں نے خواب میں یہ سب کچھ دیکھا ورنہ تو یہ زرہ ضائع کر بیٹھے گا۔ اور جب تو مدینہ میں پہنچے تو خلیفۃ المسلمین کے پاس جانا اور اس کو بتانا کہ میرے ذمے اتنا قرضہ ہے، اور میرا غلاموں میں سے فلاں غلام میری طرف سے آزاد ہے، اور خبردار! ان کو بھی یہ نہیں بتانا کہ میں نے یہ خواب میں دیکھا ہے، ورنہ سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ وہ آدمی امیر کے پاس آیا اور اس کو سارے معاملہ کی خبر دی، چنانچہ سارا معاملہ اس خبر کے مطابق پایا گیا۔ پھر وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس معاملے کی خبر دی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت کو پورا فرمایا۔ ہم نہیں جانتے کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور شخص کی بعد از وفات کی گئی وصیت کو پورا کیا گیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5107]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5107 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد قوي من أجل عطاء الخُراساني - وهو ابن أبي مسلم - وابنة ثابت بن قيس بن شماس صحابية، لأنها قالت في بعض روايات الحديث: سمعت أبي يقول … فذكرت القصة، وذكرها في الصحابة ابن أبي عاصم وأبو نُعيم وابن الأثير.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ماقبل والی روایات کی بنا پر "صحیح" ہے، اور یہ سند عطاء الخراسانی (ابن ابی مسلم) کی وجہ سے "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / معرفتِ صحابہ: ثابت بن قیس بن شماس کی بیٹی "صحابیہ" ہیں، کیونکہ انہوں نے حدیث کی بعض روایات میں کہا ہے: "میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے..." پھر انہوں نے واقعہ ذکر کیا۔ انہیں ابن ابی عاصم، ابو نعیم اور ابن الاثیر نے صحابہ میں شمار کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" لابن حجر (3721)، وأبو القاسم البغوي في "معجم الصحابة" (251)، ومن طريقه الخطيب البغدادي في "المتفق والمفترق" (332) عن أحمد بن عيسى المصري، عن بشر بن بكر، بهذا الإسناد. وزاد أبو يعلى في روايته قول ثابت للنبي ﷺ أيضًا: يا رسول الله، أنزل عليك: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ والله إني لأُحبُّ الجَمال وأُحِبُّ أن أسود قومي. وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1921)، وفي "الجهاد" (225)، والطبراني في "الكبير" (1320)، وأبو نُعيم في "دلائل النبوة" (519) من طريق الوليد بن مسلم، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (3399)، وأبو بكر الروياني في "مسنده" (1002)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (8091) من طريق صدقة بن خالد، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 356 من طريق الوليد بن مَزْيَد البيروتي، ثلاثتهم عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر به وذكر الوليد بن مسلم في روايته تصريح ابنة ثابت بن قيس بسماعها هذا الخبر من أبيها. وزاد الوليد بن مسلم وصدقة نحو الزيادة التي زادها بشر بن بكر في روايته عند أبي يعلى في "مسنده الكبير" كما تقدم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے "المسند الکبیر" (بحوالہ المطالب العالیہ 3721) اور ابو القاسم البغوی نے "معجم الصحابۃ" (251) میں، اور ان کے طریق سے خطیب بغدادی نے "المتفق والمفترق" (332) میں احمد بن عیسیٰ المصری عن بشر بن بکر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابو یعلیٰ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ثابت نے نبی کریم ﷺ سے یہ بھی عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر آیت نازل ہوئی ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ (بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا)، حالانکہ اللہ کی قسم! میں خوبصورتی (جمال) کو پسند کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اپنی قوم کا سردار بنوں۔ نیز اس کی تخریج ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (1921) اور "الجہاد" (225)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (1320)، اور ابو نعیم نے "دلائل النبوۃ" (519) میں ولید بن مسلم کے طریق سے؛ اور ابن ابی عاصم (3399)، رویانی (1002) اور ابو نعیم (8091) نے صدقہ بن خالد کے طریق سے؛ اور بیہقی (6/356) نے ولید بن مزید البیروتی کے طریق سے کی ہے؛ یہ تینوں (ولید، صدقہ، ولید بن مزید) اسے عبد الرحمن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: ولید بن مسلم نے اپنی روایت میں صراحت کی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیٹی نے یہ خبر اپنے والد سے خود سنی ہے۔ ولید بن مسلم اور صدقہ نے بھی بشر بن بکر کی طرح (خوبصورتی اور سیادت والی) وہ زیادتی بیان کی ہے جو ابو یعلیٰ کی روایت میں ہے۔
والبُرمة: القِدر.
📝 لغوی تحقیق: لفظ "البُرمَۃ" کا معنی "القدر" (ہانڈی/دیگچی) ہے۔
(1) الخَتَن: هو اسم يجمع زوجَ الابنة وأبا الزوجة، وإنما كان أبو العاص زوج زينب ابنة النبي ﷺ. وسيذكر المصنف ترجمة أبي العاص بن الربيع مرة أخرى بين يدي الخبر (6838).
📝 لغوی تحقیق: لفظ "الخَتَن" ایک ایسا اسم ہے جو بیٹی کے شوہر (داماد) اور بیوی کے باپ (سسر) دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور حضرت ابو العاص ؓ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کے شوہر تھے۔ مصنف (امام حاکم) ابو العاص بن ربیع کا تذکرہ دوبارہ حدیث نمبر (6838) سے پہلے بھی کریں گے۔