🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
280. ذكر مناقب أبى كبشة مولى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
سیدنا ابو کبشہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شيوخه، قالوا: أبو كَبْشة مولى رسولِ الله ﷺ اسمُه سُلَيم، وكان من مُولَّدي أرض دَوْس، شهدَ أبو كَبْشة مع رسول الله ﷺ بدرًا وأُحدًا والمَشاهدَ كلَّها. وتوفي أولَ يوم استُخلِف فيه عمرُ بن الخطّاب، وذلك يومَ الثلاثاء لثَمانِ ليالٍ بَقِين من جُمادى الأولى سنة ثلاثَ عشرةَ من الهجرة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5044 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابوکبشہ کا نام سلیم ہے، یہ سرزمین دوس میں پیدا ہوئے تھے، جنگ بدر، احد اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے ہی دن ان کا انتقال ہوا، یہ 22 جمادی الاولیٰ تیرہویں سن ہجری کا واقعہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5118]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5118 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 3/ 46 عن محمد بن عمر الواقدي من قوله هو، غير تسمية أبي كبشة، وكونه من مولّدي أرض دوس، فذكرها ابن سعد من قوله لم ينسبها لشيخه الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/46) میں موجود ہے جو محمد بن عمر الواقدی کے اپنے قول سے مروی ہے۔ سوائے ابو کبشہ کے نام اور ان کے "سرزمینِ دوس میں پیدا ہونے" (مولّد) کی بات کے، یہ دونوں باتیں ابن سعد نے خود اپنے قول سے ذکر کی ہیں اور اپنے شیخ واقدی کی طرف منسوب نہیں کیں۔
وقد ذكر مصعب بن عبد الله الزبيري كما في "تاريخ دمشق" 4/ 98، مثل قول الواقدي هذا. ووفاة أبي كبشة في هذا التاريخ هو قول سائر أصحاب التراجم الذين أرّخوا وفاته، خلافًا لقول خليفة الذي انفرد به بالقول بأنه توفي في سنة ثلاث وعشرين.
🔍 تحقیق: مصعب بن عبد اللہ الزبیری نے بھی واقدی کے قول جیسی بات کہی ہے (دیکھیے: "تاریخ دمشق" 4/98)۔ ابو کبشہ کی وفات اسی تاریخ (جو واقدی وغیرہ نے بتائی) میں ہونا باقی تمام مؤرخین کا قول ہے جنہوں نے ان کی وفات کی تاریخ لکھی ہے، سوائے خلیفہ (بن خیاط) کے، جو یہ کہنے میں "منفرد" ہیں کہ وہ سن 23 ہجری میں فوت ہوئے۔