المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
286. ذكر شجاعة هشام بن العاص يوم أجنادين وشهادته
یومِ اجنادین سیدنا ہشام بن العاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور ان کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 5127
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، عن شُيوخه، قالوا: هشام بن العاص [بن وائل] (1) بن هاشم (2) بن سُعَيد (3) بن سَهْم، وأمّه حرملة بنت هشام بن المُغيرة، وكان هشامٌ قديمَ الإسلام بمكةَ قبل أخيه عمرو، وهاجر إلى أرضِ الحبشة، ثم قدم مكةَ حين بلغه مُهاجَرُ النبيّ ﷺ إلى المدينة، وأراد اللَّحَاق به فحبَسه أبوه وقومُه بمكةَ، حتى قدِم بعد الخندق على النبي ﷺ المدينةَ، فشَهِد ما بعد بعد ذلك من المَشاهد كلِّها، وكان أصغر سِنًّا من أخيه عَمرو بن العاص.
محمد بن عمر اپنے شیوخ کے حوالے سے سیدنا ہشام کا نام یوں ذکر کیا ہے ” ہشام بن العاص، بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم “ ان کی والدہ کا نام ” حرملہ بنت ہشام بن مغیرہ “ ہے، سیدنا ہشام نے اپنے بھائی عمرو سے بھی پہلے مکہ شریف میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور حبشہ کی جانب ہجرت بھی کی، پھر جب ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرنے کی خبر ملی تو آپ مکہ تشریف لائے، اور وہاں سے مدینہ شریف کی جانب ہجرت کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے والد اور ان کے قبیلے نے ان کو روک لیا۔ پھر جنگ خندق کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ شریف آ گئے، اس کے بعد ہونے والی تمام مغازی میں شرکت کی۔ آپ اپنے بھائی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے چھوٹے تھے [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5127]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5127 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذه الزيادة من "طبقات ابن سعد" 4/ 178.
🔍 استدراک: یہ زیادتی (اضافہ) ابن سعد کی "الطبقات" (4/178) سے لی گئی ہے۔
(2) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: هشام، وصوَّبناه من مصادر الترجمة والأنساب.
🔍 تصحیحِ متن: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "ہشام" بن گیا تھا، ہم نے تراجم اور انساب کے مصادر کی مدد سے اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(3) تحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: سعْد، وضُبط في (ص) سَعيد بفتح العين دلالة على أنه تصغير سعْد، وهو الموافق لما ضبطه به الدارقطني في "المؤتلف والمختلف" 3/ 1188، وقال ابن ماكولا في "الإكمال" 4/ 304: اسمه سَعيد، بفتح السين وكسر العين، وقريش تُصغِّره فتسميه سُعَيدًا تصغير سعْد.
🔍 تحقیقِ نام: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "سعد" بن گیا تھا۔ نسخہ (ص) میں "سَعید" (عین کی زبر کے ساتھ) ضبط کیا گیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ "سعد" کی تصغیر (سُعَید) ہے۔ یہی دارقطنی کے "المؤتلف والمختلف" (3/1188) میں دیے گئے ضبط کے موافق ہے۔ ابن ماکولا نے "الاکمال" (4/304) میں کہا: "ان کا نام سَعید (سین کی زبر اور عین کی زیر) ہے، لیکن قریش تصغیر کر کے انہیں سُعَید کہتے تھے۔"