المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
288. دعاء النبى صلى الله عليه وآله وسلم لعكرمة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا
حدیث نمبر: 5133
أخبرَناهُ محمد بن محمد البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسوَد، عن عُروة قال: فَرَّ عِكرمةُ بن أبي جَهْل يومَ الفتح عامدًا إلى اليمن، وأقبلَت أمُّ حكيم بنت الحارث بن هشام، وهي يومئذ مُسلِمةٌ، وهي تحت عِكرمةَ بن أبي جَهْل، فاستأذنتْ رسولَ الله ﷺ في طلب زوجِها، فأذِنَ لها وأمَّنَه، فخرجتْ برُوميٍّ لها، فراوَدَها عن نفسِها، فلم تَزَل تُمنِّيه وتُقرِّب له، حتى قَدِمتْ على أُناسٍ من عَكٍّ (1) ، فاستغاثَتْهم عليه، فأوثَقُوه، فأدركَتْ زوجها ببعضِ تِهامةَ، وقد كان رَكِبَ في سفينةٍ فلما جلس فيها نادى باللاتِ والعُزَّى، فقال أصحابُ السفينة: لا يجوزُ هاهنا أحدٌ يدعو شيئًا إلَّا الله وحده مُخلِصًا، فقال عِكْرمةُ: واللهِ لئن كان في البحر وحدَه، إنه في البَرِّ وحدَه، أُقسِمُ بالله لأرجعنّ إلى محمدٍ، فرَجَع عِكْرمةُ مع امرأتِه فدخَل على رسول الله ﷺ، فبايَعه فقَبِلَ منه. ودخَل رجلٌ مِن هُذيل حين هُزِمت بنو بَكْرٍ على امرأته فارًّا فلامَتُه وعَجَّزَتْه وعَيَّرتْه بالفِرَارِ، فقال: وأنتِ لو رأيتِنا بالخَندَمَهْ … إذ فَرَّ صفوانُ وفَرَّ عِكْرِمَهْ وأَلحَمُونا بالسُّيوفِ المُسلِمَهْ … يَقطَعن كلِّ ساعدٍ وجُمجُمَهْ لم تَنطِقي في اللَّوم أدنَى كَلِمَهْ قال عُروة: واستُشهِدَ يوم أجْنادِينَ من المسلمين، ثم من قريش، ثم بني مَخزُومٍ عِكْرمةُ بن أبي جَهل (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5056 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5056 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عکرمہ بن ابوجہل فتح مکہ کے دن یمن کی طرف بھاگ گئے تھے، ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام مسلمان ہو چکی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے شوہر کے لئے امان اور اس کو ڈھونڈنے کی اجازت طلب کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امان بھی دے دی اور اجازت بھی۔ چنانچہ وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ وہ مسلسل ان کا پیچھا کرتی رہی، اسی سلسلہ میں وہ مکہ کے کچھ لوگوں کے پاس بھی گئی اور ان سے مدد مانگی، انہوں نے ان کی بہت مدد کی۔ ام حکیم کو ان کا شوہر تہامہ کے علاقہ میں مل گیا۔ لیکن اس وقت وہ کشتی میں سوار ہو چکا تھا۔ ام حکیم نے اس کو لات اور عزیٰ کی قسم دے کر آواز دی۔ یہ سن کر کشتی والوں نے کہا: یہاں پر صرف اللہ وحدہ لا شریک کے علاوہ اور کسی کو پکارنا جائز نہیں ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! اگر ایسا ہے کہ جو خشکی میں وحدہ لا شریک ہے وہی سمندر میں بھی وحدہ لا شریک ہے تو میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ جاؤں گا، پھر وہ اپنی بیوی کے ہمراہ لوٹ کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دست بوسی کی۔ جب بنو بکر کو شکست ہوئی تو قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی فرار ہو کر ان کی بیوی کے پاس آیا، انہوں نے اس کو بہت ملامت کی، برا بھلا کہا اور فرار ہونے پر اس کو شرم دلائی۔ تو اس آدمی نے ان کو جواباً کہا: اگر تم ہمیں خندمہ پہاڑ میں دیکھ لیتی جس وقت کہ صفوان اور عکرمہ بھاگ رہے تھے۔ اور انہوں نے ہمیں ایسی تیز تلواروں کے ساتھ الجھا دیا ہے جو کہ ہر بازو اور کھوپڑی کو کاٹتی ہیں۔ تو تم ملامت کرنے میں ایک لفظ بھی نہ بول پاتی۔ ٭٭ سیدنا عروہ کہتے ہیں: اجنادین کے دن مسلمانوں میں سے، پھر قریش سے پھر بنی مخزوم سے عکرمہ بن ابی جہل شریک ہوئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5133]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5133 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: عكة، وكُتب في هامش (ز) على الصواب بخط مغاير، وفاقًا لسائر مصادر تخريج الخبر. وعَكٌّ قبيلة يُضاف إليها مخلافٌ باليمن.
🔍 تصحیحِ متن: ہمارے قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "عکۃ" بن گیا تھا، جبکہ نسخہ (ز) کے حاشیے میں دوسری لکھائی سے اس کی درستی لکھی گئی ہے جو تخریج کے دیگر مصادر کے موافق ہے۔ "عَكّ" (بغیر ہائے ہوز کے) ایک قبیلہ ہے جس کی طرف یمن کا ایک علاقہ (مخلاف) منسوب کیا جاتا ہے۔
(1) وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 5/ 49 - 50 و 98 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وأخرجه الطبراني في "الكبير" 17/ (1020) عن محمد بن عمرو بن خالد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (5/49-50 اور 98) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" (17/1020) میں محمد بن عمرو بن خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وروي مثلُه عن موسى بن عُقبة، عن الزهري مرسلًا، عند البيهقي 5/ 39 - 47، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 41/ 62 ورجاله ثقات، لكن ليس فيه ذكر قصة السفينة.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح موسیٰ بن عقبہ عن الزہری سے "مرسلاً" بھی مروی ہے (دیکھیے: بیہقی 5/39-47 اور ابن عساکر "تاریخ دمشق" 41/62)۔ اس کے رجال "ثقہ" ہیں، لیکن اس میں کشتی (سفینہ) کے قصے کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرج قصة السفينة مفردة النسائي (3516) من حديث سعد بن أبي وقاص، بإسناد حسن. وأخرجها كذلك الطبراني 17/ (1019) من مرسل ابن أبي مُليكة، ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: کشتی کا واقعہ الگ سے (مفرد) نسائی (3516) نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی حدیث سے "حسن" سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اسی طرح طبرانی (17/1019) نے ابن ابی ملیکہ کی "مرسل" روایت سے نقل کیا ہے جس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
وأخرجها أيضًا ابن عساكر 41/ 65 من مرسل سليمان التيمي، ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: نیز ابن عساکر (41/65) نے سلیمان التیمی کی "مرسل" روایت سے اسے نکالا ہے، جس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
واستشهاد عكرمة بأجنادين هو أصحُّ ما قيل في ذلك، وقد وافق عروةَ بنَ الزبير عليه موسى بن عقبة كما في التاريخ "الأوسط" للبخاري 1/ 355. وهو الذي جزم به محمد بن عمر الواقدي فيما نقله عنه ابن سعد في "الطبقات" 6/ 88. ورواه موسى بن عقبة عن الزهري كما في "تاريخ دمشق" 41/ 71. وانظر ما سيأتي برقم (5135).
📌 تحقیق: عکرمہ ؓ کی شہادت "اجنادین" کے مقام پر ہونا، اس بارے میں سب سے صحیح (اصح) قول ہے۔ اس پر عروہ بن زبیر کی موافقت موسیٰ بن عقبہ نے کی ہے (دیکھیے: بخاری کی "التاریخ الاوسط" 1/355)۔ محمد بن عمر الواقدی نے بھی اسی پر جزم کیا ہے جیسا کہ ابن سعد نے "الطبقات" (6/88) میں ان سے نقل کیا ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے اسے زہری سے بھی روایت کیا ہے (دیکھیے: "تاریخ دمشق" 41/71)۔ اور جو آگے نمبر (5135) پر آ رہا ہے اسے بھی دیکھیں۔
والخدمة: جبل أسفل مكة، تجمع فيه ناس من قريش يوم الفتح ليقاتلوا المسلمين، وكان منهم صفوان بن أمية وسُهيل بن عمرو وعكرمة بن أبي جهل وغيرهم.
📝 لغوی تحقیق / جغرافیہ: "الخندمۃ": مکہ کے نچلی جانب ایک پہاڑ کا نام ہے، جہاں فتح مکہ کے دن قریش کے کچھ لوگ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ان میں صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ شامل تھے۔