🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
314. شجاعة أبى سفيان بن حرب رضي الله عنه
سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5187
حدثنا محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: أبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب بن هاشِم، وكان أخا رسولِ الله ﷺ من الرَّضاعة وابن عَمِّه، أرضعَتْه حَليمةُ أيامًا، فكان يألَفُ رسولَ الله ﷺ، فلما بُعِث رسولُ الله ﷺ عاداه وهَجَاه وهَجَا أصحابَه، فمَكَثَ عشرين سنةً مُناصبًا لرسول الله ﷺ، لا يَتخلَّف عن موضعٍ تسير فيه قريش لقتالِ رسول الله ﷺ، فلما ذُكِر شُخُوص رسولِ الله ﷺ إلى مكةَ عامَ الفتحِ ألقى الله ﷿ في قلبِه الإسلامَ، فتلقّى رسولَ الله ﷺ قبل نُزولِه الأَبْواءَ، فأسلم هو وابنه جعفرٌ، وخرج مع رسول الله ﷺ فشَهِد فتحَ مكة وحُنينًا. قال أبو سفيان: فلما لَقِينا العدوَّ بحُنينٍ اقتحمْتُ عن فرسي وبيدي السيفُ صَلْتًا، واللهُ يعلمُ أني أريد الموتَ دونَه، وهو يَنظُر إليَّ، فقال العباسُ: يا رسولَ الله، هذا أخوك وابنُ عمّك أبو سفيان بن الحارث، فارْضَ عنه، قال:"قد فعلتُ يَغْفِرُ اللهُ له كلَّ عَداوةٍ عادَانِيها" ثم الْتفتَ إليَّ فقال:"أخي لَعَمْري"، فقبّلتُ رِجلَه في الرِّكاب (1) . قالوا: ومات أبو سفيان بن الحارث بالمدينة بعد أخيه نوفل بن الحارث بأربعةِ أشهرٍ إلَّا ثلاثةَ عشرَ ليلةً، ويقال: مات سنة عِشرين، وصلَّى عليه عمرُ بن الخطاب، وقُبر في رُكْن دار عَقِيل بن أبي طالب بالبَقيع، وهو الذي حفر قبرَ نفسِه قبل أن يموت بثلاثةِ أيامٍ (2) . قد ذكرتُ إسلامَ أبي سُفيان في فتح مكة فيما تَقدَّم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5108 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن عمر نے سیدنا ابوسفیان کا نام یوں ذکر کیا ہے ابوسفیان حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی ہیں اور چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ سیدنا حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے کئی دن ان کو دودھ پلایا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت پیار کیا کرتے تھے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ بہت سخت دشمنی کرنے لگا، آپ کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ 20 سال تک یہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتا رہا، جب بھی قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی، یہ اس میں لازمی شریک ہوئے، پھر جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ میں آنے کی اطلاع ملی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی ہیبت ڈال دی، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ آنے سے پہلے ہی یہ اپنے بیٹے جعفر کو ساتھ لے گئے اور مقام ابواء پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی جانب روانہ ہوئے اور فتح مکہ اور جنگ حنین میں شریک ہوئے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جنگ حنین میں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، میں اپنے گھوڑے کو حقیر جانتے ہوئے اس نیچے اتر آیا، میرے ہاتھ میں تلوار سونتی ہوئی تھی۔ خدا کی قسم! میں صرف موت کا ارادہ کئے ہوئے تھا جب جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا بھائی اور آپ کا چچازاد، ابوسفیان بن حارث ہے، آپ اس سے راضی ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام دشمنی معاف فرمائے جو آج تک انہوں نے میرے ساتھ کی ہے، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے اور بولے: میری عمر کی قسم یہ میرا بھائی ہے۔ میں نے رکاب میں آپ کے قدموں کا بوسہ لیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے بھائی نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کی وفات کے تین ماہ اور سترہ دن بعد مدینہ میں وفات پا گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سن 20 ہجری میں فوت ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے اندر دار عقیل بن ابی طالب میں ان کا روضہ مبارک بنایا گیا، یہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے اپنی وفات سے تین دن پہلے خود ہی اپنے لئے قبر کھود لی تھی۔ سیدنا سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5187]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5187 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "المغازي" للواقدي 2/ 806 - 809، وذكره كذلك ابن سعد في "الطبقات الكبرى" 4/ 45 - 46 - من قوله هو لم يذكر شيخه محمد بن عمر الواقدي، وإنما تلقاه منه، لأنَّ هذا نصُّ كلامِه. ثم ذكر الواقدي في "مغازيه" 2/ 810 وجهًا آخر غير هذا في إسلام أبي سفيان بن الحارث، بنحو ما تقدَّم عند المصنف برقم (4407) عن ابن عباس بإسناد حسن. فهو أصح من هذا الوجه الذي هنا، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ واقدی کی "المغازی" [2/ 806-809] میں ہے، اور اسے ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" [4/ 45-46] میں اپنے قول سے ذکر کیا ہے (اپنے شیخ واقدی کا نام نہیں لیا، لیکن یہ انہی سے لیا گیا ہے کیونکہ یہ انہی کی عبارت ہے)۔ 📌 اہم نکتہ: پھر واقدی نے "المغازی" [2/ 810] میں ابو سفیان بن الحارث کے اسلام لانے کا اس سے مختلف ایک اور واقعہ ذکر کیا ہے، جو مصنف کے ہاں نمبر (4407) پر ابن عباس سے "حسن" سند کے ساتھ گزر چکا ہے۔ پس وہ روایت اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جو یہاں ہے، واللہ اعلم۔
(2) وهو في "طبقات ابن سعد" 4/ 49 أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: (2) یہ "طبقات ابن سعد" [4/ 49] میں بھی ہے۔
(3) برقم (4407) من رواية ابن عباس، بإسناد حسنٍ.
📝 نوٹ / توضیح: (3) (یہ روایت) نمبر (4407) پر ابن عباس کی روایت سے "حسن سند" کے ساتھ موجود ہے۔