🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
315. كان أحب الناس إلى النبى أبو سفيان بعد إسلامه
اسلام لانے کے بعد سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5189
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب، سمعت العباس بن محمد، سمعت يحيى بن مَعين يقول: حدثنا أبو أُسامة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه: أنَّ أبا سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب كان أحبَّ قريشٍ إلى رسول الله ﷺ، وكان شديدًا عليه، فلما أسلَمَ كان أحبَّ الناسِ إليه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5110 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام قریش میں سب سے زیادہ سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا خیال رکھتے تھے جبکہ ابوسفیان، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرتا تھا لیکن جب وہ مسلمان ہو گئے تو وہ سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5189]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5189 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات، لكنه مرسل، وهو في "تاريخ العباس الدُّوري" عن ابن معين (73). أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وعروة: هو ابن الزبير بن العوام.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ عباس الدوری کی "تاریخ" میں ابن معین (73) سے مروی ہے۔ "ابو اسامہ" سے مراد حماد بن اسامہ ہیں اور "عروہ" سے مراد ابن زبیر بن العوام ہیں۔
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "الإشراف على منازل الأشراف" (177) عن محمد بن عبّاد بن موسى، عن أبي أسامة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا نے "الاشراف علی منازل الاشراف" (177) میں محمد بن عباد بن موسیٰ سے، انہوں نے ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔