🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
320. ذكر عتبة بن مسعود أخي عبد الله بن مسعود رضي الله عنهما
سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھائی) کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5199
حدثني أبو عبد الله بن أبي ذُهْل، حدثنا أحمد بن محمد بن ياسين، حدثنا محمد بن حبيب السَّمّاك، حدثنا عبد الله بن زياد الثَّوباني - من ولد ثَوْبان - عن ابن لَهِيعة، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن لَبِيب مولى محمد بن عِيَاض الزُّهْري، عن محمد بن عِيَاض، قال: رُفِعتُ إلى رسول الله ﷺ في صِغَري وعليَّ خِرقةٌ وقد كُشِفَت عَورتي، فقال:"غَطُّوا حُرْمةَ عَورتِه، فإنَّ حُرمةَ عورة الصغيرِ كَحُرمةِ عَورةِ الكبير، ولا يَنظُرُ اللهُ إلى كاشفِ عورةٍ" (1) . ذكرُ عُتبة بن مسعود أخي عبد الله بن مسعود ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5119 - إسناده مظلم ومتنه منكر
محمد بن عیاض رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا لیث، اپنے آقا محمد بن عیاض کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (محمد بن عیاض فرماتے ہیں) بچپن میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا اس وقت میرے گلے میں تو قمیص پہنی ہوئی تھی لیکن نیچے سے میں ننگا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی شرمگاہ کو ڈھانپو، کیونکہ بچے کی شرمگاہ کی حرمت، بالغ آدمی کی حرمت کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ (بلا ضرورت) شرمگاہ کھولنے والے پر نگاہ کرم نہیں فرماتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5199]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5199 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده مُظلِم ومتنُه منكر، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقال ابن حجر في "الإصابة" 6/ 30: في السند مع ابن لَهِيعة غيرُه من الضعفاء. قلنا: ابن لَهِيعة هو عبد الله، ولبيبٌ مولى محمد بن عياض مجهول، ومحمد بن حبيب السَّمّاك وعبد الله بن زياد الثَّوباني لم نقف لهما على ترجمة. وفي الرواة في هذه الطبقة عمرو بن زياد الثوباني، فلعله تحرَّف اسمُه إلى عبد الله بن زياد، وعمرو بن زياد هذا كذَّاب يضعُ الحديث، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "اندھیر" (انتہائی ضعیف) اور متن "منکر" ہے، جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے۔ ابن حجر نے "الاصابہ" [6/ 30] میں فرمایا: سند میں ابن لہیعہ کے ساتھ دیگر ضعفاء بھی ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: ابن لہیعہ (عبداللہ) ضعیف ہیں۔ "لبیب مولیٰ محمد بن عیاض" مجہول راوی ہیں۔ "محمد بن حبیب السماک" اور "عبداللہ بن زیاد الثوبانی" کے حالات ہمیں نہیں ملے۔ اس طبقے کے راویوں میں "عمرو بن زیاد الثوبانی" موجود ہے، شاید نام تحریف ہو کر "عبداللہ بن زیاد" بن گیا ہو، اور یہ "عمرو بن زیاد" کذاب ہے جو حدیث گھڑتا تھا، واللہ اعلم۔