المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
347. وفاة ابن معاذ وتعزية النبى عليه
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی وفات اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیت کا بیان
حدیث نمبر: 5273
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أبيه، قال: كان معاذُ بنُ جَبَل شابًا حليمًا سَمْحًا من أفضل شبابِ قومِه، ولم يكن يُمسِكُ شيئًا، فلم يَزَل يَدّانُ حتى أغرقَ مالَه كلَّه في الدَّين، فأتى النبيَّ ﷺ، فكَلَّم غُرماءَه، فلو تَركُوا أحدًا من أجل أحدٍ، لَتَركُوا معاذًا من أجلِ رسول الله ﷺ، فباعَ لهم رسولُ الله ﷺ مالَه، حتى قامَ معاذٌ بغيرِ شيء (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5192 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بردبار، سخی نوجوان تھے، اپنی قوم کے تمام جوانوں سے اچھے تھے، کبھی کوئی چیز روک کر نہیں رکھتے تھے، مسلسل لوگوں سے قرضہ لے لے کر سخاوت کرتے رہے حتی کہ اپنا پورے کا پورا مال قرضے میں دے ڈالا، اورخود مقروض ہو گئے، ان کے قرض خواہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اگر کسی کی وجہ سے کوئی شخص کسی کو قرضہ معاف کرتا تو سب سے پہلے سیدنا معاذ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے چھوڑا جاتا۔ تو ان کے قرضے ادا کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مال و متاع بیچ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا سارا مال بک گیا اور آپ خالی ہاتھ رہ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5273]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5273 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات لكن الصحيح أنه مرسل كما تقدم بيانه برقم (2379).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ نمبر (2379) کے تحت بیان ہو چکا۔