المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
378. وفاة أسيد بن حضير سنة عشرين
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی وفات سن بیس ہجری میں ہوئی
حدیث نمبر: 5339
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات أبو يحيى أُسَيد بن حُضَير سنة عشرين، وكان قد شهد العَقَبة، ثم كان نَقيبًا، صلَّى عليه عمرُ بن الخطاب بالمدينة، ودُفن بالبقيع، وله كنيتان أبو يحيى وأبو حُصَين (2) ، وأبوه حُضَيرُ الكتائبِ (3) ، ولم يُعقِبْ أُسَيدٌ (4) .
محمد بن عبدالله بن نمیر فرماتے ہیں: ابویحیی ابواسید بن حضیر رضی اللہ عنہ 20 ہجری کو فوت ہوئے، آپ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے پھر آپ مبلغ اسلام مقرر ہوئے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ ان کی دو کنیتیں ہیں۔ ابویحیی اور ابوحضیر۔ ان کے والد کاتب تھے۔ اور سیدنا اسید کا کوئی جانشین نہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5339]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5339 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وقع في المطبوع: أبو حضير، وهو قول رُوي في كنية أُسيد بن حُضير، لكن ما وقع في نسخنا الخطية هو ما ذكره ابن الحذاء وأبو القاسم البغوي والطبري فيما نقله عنهم الحافظ مغلطاي في "إكمال تهذيب الكمال" 2/ 226، وذكره كذلك ابن منده في "فتح الباب في الكنى والألقاب" (2304)، والذهبي في "المقتنى" (1615)، لكن قال الذهبي: أبو حضير أشبه.
📝 نوٹ / توضیح: (2) مطبوعہ نسخے میں "ابو حضیر" ہے، اور یہ ایک قول ہے جو اُسید بن حُضیر کی کنیت کے بارے میں مروی ہے۔ لیکن ہمارے قلمی نسخوں میں وہی ہے جو ابن الحذاء، ابو القاسم البغوی اور طبری نے ذکر کیا ہے (جیسا کہ حافظ مغلطائی نے "اکمال تہذیب الکمال" 2/ 226 میں ان سے نقل کیا)۔ اسے ابن مندہ نے "فتح الباب" (2304) اور ذہبی نے "المقتنیٰ" (1615) میں بھی ذکر کیا ہے، لیکن ذہبی نے کہا: "ابو حضیر زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔"
(3) وقع في (ز) و (ب): الكاتب، والمثبت من (ص) و (م) هو الموافق لما في كتب السيرة والتراجم والتاريخ التي ذكرت حُضيرًا أبا أسيد، "كالمغازي" للواقدي 1/ 303، و "طبقات ابن سعد" 3/ 558.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز) اور (ب) میں "الکاتب" ہے، جبکہ جو متن میں ثابت کیا گیا ہے وہ (ص) اور (م) سے ہے، اور یہی سیرت، تراجم اور تاریخ کی کتابوں کے موافق ہے جنہوں نے حُضیر (اسید کے والد) کا ذکر کیا ہے، جیسے واقدی کی "المغازی" (1/ 303) اور "طبقات ابن سعد" (3/ 558)۔
(4) يعكِّر على قوله: لم يُعقب، ما ثبت في "مسند أحمد" 18/ (11766)، و "صحيح مسلم" (796) عن أبي سعيد الخدري من ذكر أُسَيدٍ ابنه يحيى في خبرٍ ذكره. فلعلَّ يحيى هذا مات ولم يُعقب فلم يبق لأُسيد بعده عَقِبٌ، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) اس قول پر کہ "ان کی نسل نہیں چلی (لم یُعقب)" یہ بات اعتراض وارد کرتی ہے جو "مسند احمد" (18/ 11766) اور "صحیح مسلم" (796) میں ابو سعید خدری سے ثابت ہے، جس میں ایک خبر کے دوران اُسید نے اپنے بیٹے "یحییٰ" کا ذکر کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: شاید یہ یحییٰ فوت ہو گئے ہوں اور ان کی اولاد نہ ہوئی ہو، جس کی وجہ سے اُسید کی نسل آگے نہ چل سکی ہو، واللہ اعلم۔