🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
450. معجزة رمي النبى الحصاة وانهزام الكفار يوم حنين
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کنکری پھینکنا اور کفار کا شکست کھا جانا (معجزہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5504
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا زكريا بن يحيى الخَزّاز، حدثنا عمُّ أبي زَحْرُ بن حِصن، عن جده حُميد بن مُنهب، قال: سمعت جَدّي خُرَيم بن أوس بن حارثة بن لأم يقول: هاجرتُ إلى رسول الله ﷺ مُنصَرَفَه من تَبُوك، فأسلمتُ، فسمعتُ العباسَ بن عبد المطلب يقول: يا رسول الله، إني أريد أن أمتَدِحَك، فقال رسول الله ﷺ:"قُلْ، لا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ"، قال: فقال العباس: من قَبلِها طِيبتَ في الظِّلالِ وفي … مستودع حين يُخصَفُ الوَرَقُ ثم هبطت البلاد لا بَشَرٌ … أنت ولا مُضغةٌ ولا عَلَقُ بَل نُطْفةٌ تَركَبُ السَّفِينَ وقد … أَلْجَمَ نَسْرًا وأهلَه الغَرَقُ تُنقَلُ مِن صالبٍ إلى رَحِمٍ … إذا مَضَى عالمٌ بدا طَبَقُ حتّى احتوى بيتُك المُهَيمِنُ مِن … خِنْدِفَ عَلْياءَ تحتَها النُّطُقُ وأنت لما وُلِدتَ أشرقَتِ ال … أرضُ وضاءَتْ بِنُورِكَ الأُفُقُ فنحنُ في ذلك الضياءِ وفي الن … نُورِ وَسُبْلِ الرَّشادِ نَحْتَرِقُ (1)
هذا حديث تَفرَّد به رواتُه الأعرابُ عن آبائهم، وأمثالُهم من الرواة لا يُضعَّفُون.
خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس لوٹے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور اسلام لے آیا، میں نے سنا کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی تعریف و ثناء کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) کہو، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو کبھی خالی نہ کرے۔ انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ * آپ اس سے پہلے جنت میں تھے اور سیدنا حواء رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں جہاں پر جسم پر درختوں کے پتے لپیٹے جا رہے تھے۔ * پھر آپ اس وطن میں آئے جہاں آپ نہ بشر تھے، نہ مضغہ (گوشت کی بوٹی) تھے اور نہ علق (خون کی پھٹک) تھے۔ * بلکہ ایک نطفہ تھے، اور آپ کشتی نوح میں سوار ہوئے اور قوم نوح کے نسر نامی بت کے گلے میں رسی ڈالی، اور اس کے ماننے والوں کو ڈبویا۔ * آپ پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوتے رہے زمانہ گزرتا رہا اور صدیاں بیت گئیں۔ * آپ کی شرافت جو کہ آپ کے فضل و کمال پر شاہد ہے غالب آ گئی بڑے بڑے خاندانوں پر، کہ باقی تمام خاندان اس بلند مرتبے کے نیچے ہیں۔ * جب آپ کی ولادت ہوئی تو زمین روشن ہو گئی اور آسمان چمک اٹھا۔ * ہم اسی نور اور اسی روشنی میں، اور نیکی کے راستوں میں چلتے ہیں۔ اس حدیث کے عرب راوی اپنے آباء سے یہ حدیث روایت کرنے میں منفرد ہیں اور اس قسم کے راویوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5504]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5504 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله، كما مضي بيانه برقم (5382).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس سند کے حسن ہونے کا احتمال ہے، ان شاء اللہ۔ جیسا کہ اس کی وضاحت پہلے نمبر (5382) کے تحت گزر چکی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 5/ 268 - 269 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (5/ 268-269) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے حوالے سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
وهو في "جزء أبي السُّكين زكريا بن يحيى" كما في "البداية والنهاية" لابن كثير 3/ 368، ومن طريقه أخرجه ابن قتيبة في "غريب الحديث" 1/ 359، وأبو بكر الشافعي في "الغيلانيات" (285)، والطبراني في "الكبير" (4167)، وابن مَنْدَه في "معرفة الصحابة" ص 520 - 521، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (2520)، والخطيب في "الأسماء المبهمة" ص 449، وابن عساكر 3/ 409 - 410، وابن الجوزي في "المنتظم" 3/ 371، وابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 606، وشرف الدين الدمياطي في الأول من "معجم شيوخه" (23).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "جزء ابی السکین زکریا بن یحیی" میں موجود ہے جیسا کہ ابن کثیر کی "البدایۃ والنہایۃ" (3/ 368) میں مذکور ہے۔ اور انہی کے طریق سے اسے ابن قتیبہ نے "غریب الحدیث" (1/ 359)، ابو بکر شافعی نے "الگیلانیات" (285)، طبرانی نے "الکبیر" (4167)، ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابۃ" (ص 520-521)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (2520)، خطیب بغدادی نے "الأسماء المبہمۃ" (ص 449)، ابن عساکر (3/ 409-410)، ابن جوزی نے "المنتظم" (3/ 371)، ابن اثیر نے "أسد الغابۃ" (1/ 606) اور شرف الدین دمیاطی نے اپنی "معجم شیوخ" کے حصہ اول (23) میں روایت کیا ہے۔
قوله: طبتَ في الظلال، أي: ظلال الجنة تحت أشجارها حين كان في صلب آدم.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "طِبْتَ في الظِّلَالِ" کا مطلب ہے: جنت کے درختوں کے سائے، یعنی جب آپ (بطور نور) حضرت آدم علیہ السلام کے صلب میں موجود تھے۔
ومستودَع: يُحتمل أن يكون الرحم، ويُحتمل موضع آدم وحواء الذي أُودِعا فيه من الجنة وهما يخصفان الوَرَق.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "مُسْتَودَع" (امانت رکھے جانے کی جگہ) سے مراد رحمِ مادر بھی ہو سکتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت میں حضرت آدم و حوا علیہما السلام کی وہ جگہ ہو جہاں انہیں رکھا گیا تھا جب وہ اپنے اوپر پتے جوڑ رہے تھے۔
وقوله: ثم هبطت البلاد، أي: بهبوط أبيك وأنت حينئذٍ في صُلبه. لا بَشَرٌ، أي: لم تكن في الخلق يومئذٍ بشرًا.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "ثُمَّ هَبَطْتَ الْبِلَادَ" (پھر آپ شہروں میں اترے) یعنی اپنے والد (آدم علیہ السلام) کے ہبوط (اترنے) کے ذریعے، جبکہ آپ اس وقت ان کی پشت میں تھے۔ "لَا بَشَرٌ" کا مطلب ہے کہ آپ اس وقت تخلیقی اعتبار سے بشری شکل میں نہیں تھے۔
ولا مضغة: وهي القطعة من اللحم بقدر ما يُمضَغ.
📝 نوٹ / توضیح: "وَلَا مُضْغَةٌ" یعنی نہ ہی آپ مضغہ (گوشت کا لوتھڑا) تھے؛ مضغہ گوشت کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو چبانے کی مقدار کے برابر ہو۔
ولا عَلَق: وهو الدم الجامد الغليظ، بل كنت نطفةً وهو الماء الذي يكون منه الولد في صُلب نوح لم ينتقل بعدُ في هذه المراتب التي ينتقل فيها الجنين، ثم تركب سفينة بركوب نُوح فيها.
📝 نوٹ / توضیح: "وَلَا عَلَقٌ" (اور نہ ہی آپ علقہ تھے)؛ علق جمے ہوئے گاڑھے خون کو کہتے ہیں، بلکہ آپ تو نطفہ تھے (وہ پانی جس سے اولاد بنتی ہے) جو حضرت نوح علیہ السلام کے صلب میں تھا اور ابھی ان مراحل میں منتقل نہیں ہوا تھا جن سے جنین گزرتا ہے۔ پھر آپ حضرت نوح علیہ السلام کے سوار ہونے کے سبب کشتی میں سوار ہوئے۔
وقوله: السَّفين، جاء أنه لغة في السفينة، والمشهور أنه جمع سفائن.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "السَّفِين" کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ "سفینۃ" ہی کی ایک لغت (بول چال) ہے، جبکہ مشہور یہ ہے کہ یہ "سفائن" کی جمع ہے۔
وقوله: وقد ألجمَ نسرًا وأهلَه الغَرَقُ، أي: نجوت مع أبيك نوح من الغرق وغَرِق نَسْرٌ صنمُ قوم نوح، وإلجام الغَرَق كناية عن وصول الماء إلى أفواههم التي هي موضع اللجام.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "وَقَدْ أَلْجَمَ نَسْرًا وَأَهْلَهُ الْغَرَقُ" کا مفہوم ہے کہ آپ اپنے والد نوح علیہ السلام کے ساتھ غرق ہونے سے نجات پا گئے جبکہ قومِ نوح کا بت "نسر" اور اس کے ماننے والے ڈوب گئے۔ "إلجام الغرق" (پانی کا لگام ڈالنا) ایک کنایہ ہے کہ پانی ان کے مونہوں تک پہنچ گیا جو کہ لگام کی جگہ ہے۔
وقوله: تُنقل من صالب إلى رحم، الصالب: الصُّلب، وهو كل شيء من الظهر فيه فقار.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إِلَى رَحِمٍ"؛ یہاں "صَالِب" سے مراد "صُلْب" (پشت) ہے، اور یہ پیٹھ کا وہ حصہ ہے جس میں مہرے ہوتے ہیں۔
والعالم: القرنُ من الناس: الجماعة من الناس، لأنهم يطبقون الأرض ثم ينقرضون ويأتي طبق آخر.
📝 نوٹ / توضیح: "الْعَالَم" سے مراد لوگوں کی ایک نسل یا جماعت (القرن) ہے، کیونکہ وہ زمین کو بھر دیتے ہیں، پھر ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرا طبقہ آ جاتا ہے۔
وقوله: احتوي، أي: استوى وغَلَب.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "احْتَوَى" کا معنی ہے: وہ غالب آگیا اور چھا گیا۔
وبيتُك، أي: شرفُك ومجدُك.
📝 نوٹ / توضیح: "بَيْتُكَ" سے مراد آپ کا شرف اور بزرگی ہے۔
وأما خِنْدِف فهي ست قبائل أشرفها قريش، وهي امرأة اليأس بن مضر، واسمها ليلى، نُسِبوا إليها.
📝 نوٹ / توضیح: جہاں تک "خِنْدِف" کا تعلق ہے تو یہ چھ قبائل ہیں جن میں سب سے معزز قریش ہیں۔ یہ الیاس بن مضر کی بیوی تھیں، جن کا نام لیلیٰ تھا، یہ قبائل انہی کی طرف منسوب ہیں۔
والنُّطُق: في الأصل جمع نطاق، وهو ما تشدّ به المرأة وسطها فوق الثياب، والمعنى: أنك أعلى قومك نسبًا وهم دونك كالنطاق لك. أو أنه أراد العفاف، من لبس المرأة النطاق، أي: تحتها العفاف والحسبُ. أو أنه يعني بالنُّطُق المتكلمين جمع ناطق، أي: إن كل خطيب في العرب دون خطباء قومك.
📝 نوٹ / توضیح: "النُّطُق": اصل میں یہ "نطاق" کی جمع ہے، وہ کپڑا جسے عورت اپنے کپڑوں کے اوپر کمر پر باندھتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ نسب میں اپنی قوم سے بلند ہیں اور وہ آپ سے نیچے ہیں جیسے کمر بند (نطاق) ہوتا ہے۔ یا اس سے مراد "عفت و پاکیزگی" ہے، جیسے عورت کا نطاق پہننا، یعنی اس نسب کے نیچے عفت اور حسب موجود ہے۔ یا پھر "نُطُق" سے مراد بولنے والے (مقررین) ہیں جو کہ "ناطق" کی جمع ہے، یعنی عرب کا ہر خطیب آپ کی قوم کے خطیبوں سے کم تر ہے۔
انظر "المعاني الكبير" لابن قتيبة 1/ 557 - 558، و"جامع الآثار" لابن ناصر الدين الدمشقي 2/ 307 - 317.
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: ابن قتیبہ کی "المعانی الکبیر" (1/ 557-558) اور ابن ناصر الدین دمشقی کی "جامع الآثار" (2/ 307-317)۔