المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
452. لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا به الأحياء
ہمارے مردوں کو برا مت کہو کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچتی ہے
حدیث نمبر: 5507
وقد حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن داود الزاهد، قالا: أخبرنا علي بن الحسين (4) بن الجُنيد، حدثنا أحمد بن صالح المصري، حدثنا محمد بن طلحة التَّيْمي، حدثنا أبو سُهيل (5) بن مالك، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن أبي وقاص، قال: خرج النبيُّ ﷺ يجهِّز جيشًا، فنظر العباس، فقال:"هذا العباسُ عمُّ النبيِّ أَجوَدُ قُريش كفًّا، وأوصلُها لها" (6) .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کی تیاری کے سلسلے میں نکلے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور تمام قریش سے زیادہ سخی ہیں اور ان کے ساتھ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5507]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5507 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرّف في (ز) إلى: الحسن، والصواب ما أثبتنا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) نسخہ (ز) میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسن" بن گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔