المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
459. لا يدخل قلب امرئ الإيمان حتى يحبكم لله ولرسوله
کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرے
حدیث نمبر: 5525
أخبرني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرِير، عن عمرو بن ثابت، قال: دخل رجلٌ على الحُسين بن عليٍّ وهو يأكُلُ، فقال: ادْنُ فكُل، قال: إني قد أكلتُ، قال: عندَ مَن؟ قال: عندَ ابن عباس، قال: أما إن أباهُ كان سيِّدَ قُريشٍ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5436 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت سیدنا حسین کھانا کھا رہے تھے، آپ نے اس کو بھی کھانے میں شامل ہونے کی دعوت دی، اس نے کہا: میں کھا چکا ہوں، آپ پوچھا کس کے پاس؟ اس نے کہا: سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس۔ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں ان کے والد قریش کے سردار ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5525]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5525 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت - وهو ابن هرمز الكوفي - على أنه لم يُدرك الحسين بنَ علي - وهو ابن أبي طالب - إنما يروي هذا الخبر عن حبيب بن أبي ثابت كما أخرجه الطبراني في "الكبير" (2911)، وفي "الأوسط" (1954) من طريق أبي عتّاب سهل بن حماد الدلال، عن عمرو بن ثابت، حدثني حبيب بن أبي ثابت قال: صنعت امرأة من نساء الحسين طعامًا .... ثم ذكر نحوه بأطول ممّا هنا. وليس فيه تصريح بحضور حبيب بن أبي ثابت للقصة كذلك، وكان حبيب يُرسل كثيرًا. جرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمرو بن ثابت (ابن ہرمز کوفی) کے ضعف کی وجہ سے۔ مزید یہ کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا (انقطاع ہے)، وہ یہ خبر حبیب بن ابی ثابت سے روایت کرتے ہیں، جیسا کہ طبرانی نے "الکبیر" (2911) اور "الأوسط" (1954) میں ابو عتاب سہل بن حماد دلال کے طریق سے عمرو بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ: "مجھے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ حسین کی بیویوں میں سے ایک نے کھانا تیار کیا..." پھر اس سے لمبی روایت ذکر کی جو یہاں مذکور ہے۔ نیز اس میں حبیب بن ابی ثابت کے اس قصے میں حاضر ہونے کی تصریح بھی نہیں ہے، اور حبیب کثرت سے "ارسال" (مرسل روایت) کرتے تھے۔ جریر: یہ ابن عبدالحمید ہیں۔