🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
478. حبيب بن مسلمة الفهري كان مجاب الدعوة
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ قبولِ دعا تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5566
حَدَّثَنَا أحمد بن الحسن البَزَّار، حَدَّثَنَا أزهر بن زُفَر المِصري (4) ، حَدَّثَنَا أبو أسلَمَ محمد بن مَخْلِدِ الرُّعَيني، حَدَّثَنَا سليمان بن أبي كَرِيمة، عن مَكحُول، عن قَزَعة بن يحيى، عن حَبيب بن مَسْلَمة، قال: قال رسول الله ﷺ:"زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ، حُبًّا" (5) .
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتیہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دیر بعد ملاکرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5566]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5566 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: البصري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "البصری" ہو گیا ہے۔
(5) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سليمان بن أبي كريمة ومحمد بن مخلد الرُّعيني.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے، تاہم اس کی یہ مخصوص سند سلیمان بن ابی کریمہ اور محمد بن مخلد الرعینی کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (3535)، وفي "الأوسط" (3052)، وفي "الصغير" (296)، وفي "مسند الشاميين" (3563)، وابن عُدي 3/ 262، وتمّام الرازي في "فوائده" (64) وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (2166)، وابن عساكر 22/ 357 - 358، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (1239) من طرق عن أزهر بن زُفَر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الكبير" (3535)، "الأوسط" (3052)، "الصغير" (296) اور "مسند الشاميين" (3563) میں روایت کیا ہے۔ نیز ابن عدی (3/ 262)، تمام الرازی نے "فوائدہ" (64)، ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (2166)، ابن عساکر (22/ 357-358) اور ابن الجوزی نے "العلل المتناهية" (1239) میں ازہر بن زفر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال المنذري في "الترغيب والترهيب": هذا الحديث قد روي عن جماعة من الصحابة، وقد اعتنى غير واحدٍ من الحفاظ بجمع طرقه والكلام عليها، ولم أقف له على طريق صحيح كما قال البزار، بل له أسانيد حِسان عند الطبراني وغيره.
📝 نوٹ / توضیح: علامہ منذیری "الترغيب والترهيب" میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے اور کئی حفاظِ حدیث نے اس کے طرق جمع کرنے اور ان پر کلام کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ امام بزار کی طرح مجھے بھی اس کی کوئی "صحیح" سند نہیں ملی، البتہ طبرانی وغیرہ کے ہاں اس کی "حسن" اسانید موجود ہیں۔
وقال السخاوي في "المقاصد الحسنة" (537): وأفرد أبو نعيم طُرُقه ثم شيخُنا (يعني ابنَ حجر) في "الإنارة بطُرق غِبّ الزيارة"، وبمجموعها يتقوَّى الحديث.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام سخاوی "المقاصد الحسنة" (537) میں لکھتے ہیں کہ ابو نعیم نے اس کے طرق پر الگ رسالہ لکھا، پھر ہمارے شیخ ابن حجر عسقلانی نے بھی "الإنارة بطرق غب الزيارة" میں اسے جمع کیا؛ ان تمام طرق کے مجموعے سے یہ حدیث "قوی" ہو جاتی ہے۔
وانظر "فتح الباري" لابن حجر 18/ 472 - 473.
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے حافظ ابن حجر کی "فتح الباری" (18/ 472-473) ملاحظہ فرمائیں۔
وقوله: "زُر غِبًّا" معناه: زُر أخاك وقتًا بعد وقتٍ، ولا تُلازم زيارته كلَّ يوم.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "زُر غِبًّا" (ناغہ کر کے ملو) کا مطلب یہ ہے کہ اپنے بھائی سے وقفے وقفے سے ملاقات کرو اور ہر روز ملنے کی ہمیشگی نہ کرو (تاکہ محبت برقرار رہے)۔